BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم: جھڑپیں جاری، مذاکرات شروع

کرم ایجنسی
تازہ جھڑپوں میں لوئر کرم کے علاقوں میں نو مزید افراد زخمی ہوگئےہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پچھلے دس دنوں سے جاری فرقہ وارانہ جھڑپیں روکنے کےلیے حکومت نے متحارب قبائل سے ایک بار پھرمذاکرات شروع کر دیئے ہیں۔

دوسری طرف علاقے میں شدید لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس میں نو مزید افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کرم ایجنسی سے موصولہ اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق کوہاٹ ڈویژن کے ریجنل کوآرڈنیشن افسرعمر آفریدی پیر کو لوئر کرم کے صدر مقام صدہ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اہل سنت والجماعت کے چھ قبائل کے مشران سے امن بات چیت کریں گے۔

گزشتہ روز ریجنل کوآرڈنیشن افسرعمر آفریدی نے اچانک پارہ چنار کا دورہ کیا تھا اور وہاں اہل تشیع کے مشران سے علاقے میں فوری جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے حوالے سے اہم مذاکرات کئے تھے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات کے بعد فریقین جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔

تاہم دوسری طرف علاقے میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس میں دونوں طرف سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپوں میں لوئر کرم کے علاقوں میں نو مزید افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اشیاء خوردنوش کی قلت
 لڑائی اور مسلسل کشیدگی کی وجہ سے تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں کئی ہفتوں سے مکمل طورپر بند پڑے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو پشاور اور دیگر علاقوں تک پہنچنے میں شدید دقت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں اشیاء خوردونوش اور ادویات کی بھی شدید قلت پائی جاتی ہے

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح نامعلوم مقام سے داغا گیاایک میزائل صدہ ریسٹ ہاؤس کے قریب اس وقت پھٹا جب وہاں ہنگو امن جرگہ کا ایک اجلاس جاری تھا۔

تاہم حملے سے جرگہ اراکین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لوئر اور سنٹرل کے علاوہ ہنگو امن جرگہ اور علاقے کے دو سو کے قریب مشران شریک تھے۔ اہلکار نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد جرگہ کا اجلاس کسی نامعلوم پر منتقل کردیا گیا۔

ادھر علاقے میں لڑائی اور مسلسل کشیدگی کی وجہ سے تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں کئی ہفتوں سے مکمل طورپر بند پڑے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو پشاور اور دیگر علاقوں تک پہنچنے میں شدید دقت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں اشیاء خوردونوش اور ادویات کی بھی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل پارہ چنار سے فوج کی نگرانی میں پشاور جانے والے مسافر گاڑیوں کے قافلے پر بم حملے کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں مقامی ذرائع کے مطابق اب تک چالیس کے قریب افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ علاقے میں فوج اور فورنٹیر کور کے دستے موجود ہیں تاہم بظاہر حکومت لڑائی روکنے اور علاقے میں امن قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد