BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیام امن میں ناکامی پر جرگہ گرفتار

کرم ایجنسی
کرم ایجنسی میں ایک سال میں تین بار فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی ہیں
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں امن کے قیام کے لیے قائم اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کے مشران پر مشتمل جرگے کے ناکامی کے بعد جرگے کے پچاس سے زائد اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امن جرگہ اراکین کو حراست میں لیے جانے کے بعد سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنگو امن جرگہ کے رکن اور ضلعی ناظم ہنگو حاجی خان افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پولیٹکل انتظامیہ کرم کے حکم پر ایف سی آر کے تحت پچاس سے زائد اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے پشاور میں اہل تشیع اور اہل سنت والجماعت کے مشران کے مابین کرم ایجنسی میں امن کے قیام کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی لیکن حکام کی طرف سے انتہائی کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان امن مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے تھے لہذٰا حکومت کو مجبوراً دونوں فریقوں کے مشران کو حراست میں لینا پڑا۔

انہوں نے تردید کی کہ ہنگو امن جرگے کی ناکامی کی وجہ سےگرفتاریاں کی گئیں ہیں۔ ناظم نے وضاحت کی کہ دونوں فریقوں نے جرگہ میں غیر ضروری نکات اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کوئی فریق دعویداری لکھنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ان کے مطابق حکومت نے فریقین پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ دونوں فریق امن بات چیت کے لیے تیار ہو جائیں۔

 حکام کی طرف سے انتہائی کوششوں کے باجود بات فریقین کے درمیان امن مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے تھے لہذٰا حکومت کو مجبوراً دونوں فریقوں کے مشران کو حراست میں لینا پڑا
حاجی خان افضل

کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الااسلام کا کہنا ہے کہ حکومت نے جرگہ اراکین کو نہیں بلکہ فریقین کو حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان پر میڈیا سے بات کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پارہ چنار سے فوج کی نگرانی میں پشاور جانے والےمسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر لوئر کرم کے علاقے خوار کلی کے قریب نامعلوم بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک راہگیر ہلاک ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوئیں تھیں جو کئی روز تک جاری رہیں۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین مرتبہ فرقہ وارانہ جھڑپیں ہو چکی ہیں جس میں تین سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد