خیبر ایجنسی میں جھڑپیں، آٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مقامی شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی صبح تیراہ کے دور دراز علاقے سنڈہ پال اور آس پاس کے گاؤں میں شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصار السلام کے مسلح حامیوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں جبکہ جنگ بندی کے سلسلے میں ابھی تک انتظامیہ اور نہ ہی قبائلی مشران کی جانب سے کسی قسم کے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی انتطامیہ سے بارہا رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ یہ جھڑپیں تحصیل باڑہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور ہوئی ہیں جہاں پر رسائی انتہائی مشکل ہے۔ جس علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے اسے انصار السلام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ لشکر اسلام کی کوشش ہے کہ تحصیل باڑہ کے بعد ان علاقوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ خیبر ایجنسی میں مبینہ طور پر سرگرم کئی مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے لڑائیاں جاری ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین سمیت عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت پشاور کے سنگم پر واقع اس قبائلی ایجنسی میں حکومتی عملداری تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ |
اسی بارے میں خیبرایجنسی میں مذہبی کمانڈر قتل20 May, 2008 | پاکستان اورکزئی: تصادم میں تین سے زائد ہلاک27 May, 2008 | پاکستان پشاور، باڑہ میں بم دھماکے، 3 ہلاک24 May, 2008 | پاکستان باجوڑ میں صحافی گولیوں سے چھلنی22 May, 2008 | پاکستان باڑہ میں مدرسے پر خودکش حملہ01 May, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں فائر بندی17 April, 2008 | پاکستان ’سنگسارشدہ جوڑے کی لاشیں واپس‘02 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||