BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 May, 2008, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں صحافی گولیوں سے چھلنی

صحافی محمد ابراہیم
حملہ آور صحافی کا موٹر سائیکل اور کیمرہ چھین کر اپنے ساتھ لے گئے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک مقامی سنئیر صحافی کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا ہے۔

باجوڑایجنسی سے موصول ہونے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو عنایت کلی کے علاقے میں پیش آیا۔

باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ایکسپریس ٹی وی سے وابستہ مقامی صحافی محمد ابراہیم موٹر سائیکل پر گھر جارہے تھے کہ عنایت کلی بائی پاس کے قریب گھات لگائے نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور صحافی کا موٹر سائیکل اور کیمرہ چھین کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

مقتول صحافی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مقتول کی کسی ذاتی دوشمنی نہیں تھی۔

پشاور میں ایکسپریس نیوز کے بیور چیف جمشید احمد باغوان نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد ابراہیم باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر کا انٹرویو کرکے واپس آرہے تھے کہ نامعلوم افراد ان کو نشانہ بنایا جس سے موقع ہی جان بحق ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ محمد ابراہیم نے انٹرویو کرنے سے پہلے ان کو مطلع کیا تھا اور بعد میں بھی ان سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کے صحافی کو کس نے ہلاک کیا ہے۔

درین اثناء پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبریونین اف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے باجوڑ ایجنسی میں صحافی کی فرائض سرانجام دینے کے دوران ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول کی قاتلوں کو فوری طورپر گرفتار کیا جائے۔

محمد ابراہیم باجوڑ ایجنسی کے ایک سنئیر صحافی تھے۔ ان کا شمار ٹرائیبل یونین اف جرنلسٹس کے اہم رہنماوں میں ہوتا تھا۔

واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل بھی باجوڑ ایجنسی میں ایک مقامی صحافی کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مارکر ہلاک کیا تھا۔ علاقے میں نشانہ بناکر قتل کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں
حب: تین دن میں تیسرا قتل
22 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد