BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 May, 2007, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی:’قبول اسلام کے لیے دباؤ‘

شیخ دین محمد
دین محمد نے اٹھائیس سال قبل سکھ مذہب ترک کرکے اسلام قبول کیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکھ سے مسلمان ہونے والے ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ علاقے میں سرگرم ایک شدت تنظیم کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صحیح طورپر مسلمان نہیں ہوئے ہیں لہذا وہ تنظیم کے ’مسلک‘ کے مطابق دوبارہ اسلام قبول کریں۔

دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے نو مسلم شیخ دین محمد کے اس دعوی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

نو مسلم شیخ دین محمد نے بدھ کو پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ شدت پسند تنظیم ’انصار الاسلام‘ کے رہنما قاضی محبوب اور سید اکبر نے چند ماہ قبل انہیں پیغام بھیجا کہ ان کا قبول کردہ اسلام ’معتبر‘ نہیں ہے لہذا وہ ان کے ہاتھ پر دوبارہ اسلام قبول کریں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے انکار پر انصار الاسلام کے حامیوں نے لنڈیکس تیراہ میں واقع ان کا گھر جلادیا، بیٹے کو یرغمال بنایا جبکہ ان سے اسی ہزار روپے جرمانہ وصول کرکے انہیں پورے خاندان سمیت علاقہ بدر بھی کردیا۔

شیخ دین محمد گزشتہ چھ ماہ سے پشاور کے علاقے سڑوزئی میرہ پھندو روڈ پر رہائش پزیر ہیں۔ 47 سالہ دین محمد نے اٹھائیس سال قبل سکھ مذہب ترک کرکے اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے چار بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں۔

ان کے مطابق خیبر ایجنسی میں وہ خاندان سمیت پر امن زندگی گزار رہے تھے لیکن چند سال قبل علاقے میں دو شدت پسند تنظیمیں ’انصار الاسلام‘ اور ’لشکر اسلام‘ کے مابین جھڑپیں شروع ہوئیں تو ان تنظیموں کی طرف سے ایک دوسرے کے حامیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

 شدت پسند تنظیم ’انصار الاسلام‘ کے رہنما قاضی محبوب اور سید اکبر نے چند ماہ قبل مجھے پیغام بھیجا کہ میرا قبول کردہ اسلام ’معتبر‘ نہیں ہے لہذا میں ان کے ہاتھ پر دوبارہ اسلام قبول کروں
شیخ دین محمد

دین محمد کا کہنا ہے کہ ’انصار الاسلام‘ کے رہنما ان کے قبول کردہ اسلام کو ’تبلیغی اسلام ‘ سمجھتے ہوئے ’معتبر‘ نہیں مان رہے ہیں حالانکہ وہ اور ان کی بیوی اور بچے سب مسلمان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں تنظیموں کے مابین مسلکی اختلافات ہیں جس میں انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ انہوں نے کبھی کسی تنظیم کی حمایت نہیں کی۔ دین محمد نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ سے بھی رابط کیا لیکن کسی نے توجہ نہیں دی اس لیے انہیں مجبوراً پریس کانفرنس کرنی پڑی۔

اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننے کے لیے سسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ عطاؤالرحمان سے رابط کیا گیا تو انہوں نے دین محمد کے دعوی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔

واضح رہے کہ ڈیڑھ سال قبل لشکر اسلام کے پنچ پیری مسلک کے رہنماء مفتی منیر شاکر اور پیر پرست افغان نژاد رہنماء پیر سیف الرحمٰن کے حامیوں میں مذہبی عقائد کی بنیاد پر کئی جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک سو بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹمعاملہ قبول اسلام کا
کیا ہندو لڑکیوں نے زبردستی اسلام قبول کیا؟
اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں ’ گے میرج‘
05 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد