مہمند رائفلز کےدس اہلکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے علماء کمیٹی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد مہمندرائفلز کے اغواء کئے گئے دس اہلکاروں کو غیر مشروط طور پر آزاد کردیا ہے۔ مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ سید احمد جان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان نے مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو منگل کی رات ساڑھے دس بجے قندارو کے علاقے میں قومی اسمبلی کے رکن مولانا غلام صادق کی سربراہی میں قائم علماء کی دس رکنی کمیٹی کے حوالے کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رہائی پانے کے بعد تمام سرکاری اہلکار صدر مقام غلنئی میں واقع مہمند رائفل کیمپ پہنچ گئے ہیں۔ مہمند رائفلز کے ان دس اہلکاروں کو یکم ستمبر کو مقامی طالبان نے اغواکیا تھا اور گزشتہ پانچ روز سے کئی سطح پر مختلف جرگے ان کی رہائی کی کوششوں میں مصروف تھے تاہم مقامی دینی علماء پر مشتمل جرگہ ہی ان مغوی اہلکاروں کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوسکا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود نے چند روز قبل ان اہلکاروں کی اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی اور مذاکرات کے دوران مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نے جرگے سے تین دن کی یعنی منگل کے روز تک مہلت مانگی تھی تاکہ ان کا امیر ولی اللہ عرف خالد عمر بیت اللہ محسود سے اس سلسلے میں مشاورت کرسکیں۔ | اسی بارے میں اور اب مہمند رائفلز کے دس اہلکار اغوا01 September, 2007 | پاکستان ’مہمند رائفلز اہلکار ہم نے اغواء کیے‘02 September, 2007 | پاکستان اہلکار بازیاب نہ ہو سکے،جرگہ واپس02 September, 2007 | پاکستان مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ29 July, 2007 | پاکستان ’طالبان کی حملوں سے لاتعلقی‘03 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||