BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند رائفلز کےدس اہلکار رہا

فائل فوٹو
مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو یکم ستمبر کو مقامی طالبان نے اغواکیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے علماء کمیٹی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد مہمندرائفلز کے اغواء کئے گئے دس اہلکاروں کو غیر مشروط طور پر آزاد کردیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ سید احمد جان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان نے مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو منگل کی رات ساڑھے دس بجے قندارو کے علاقے میں قومی اسمبلی کے رکن مولانا غلام صادق کی سربراہی میں قائم علماء کی دس رکنی کمیٹی کے حوالے کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رہائی پانے کے بعد تمام سرکاری اہلکار صدر مقام غلنئی میں واقع مہمند رائفل کیمپ پہنچ گئے ہیں۔

مہمند رائفلز کے ان دس اہلکاروں کو یکم ستمبر کو مقامی طالبان نے اغواکیا تھا اور گزشتہ پانچ روز سے کئی سطح پر مختلف جرگے ان کی رہائی کی کوششوں میں مصروف تھے تاہم مقامی دینی علماء پر مشتمل جرگہ ہی ان مغوی اہلکاروں کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوسکا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود نے چند روز قبل ان اہلکاروں کی اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی اور مذاکرات کے دوران مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نے جرگے سے تین دن کی یعنی منگل کے روز تک مہلت مانگی تھی تاکہ ان کا امیر ولی اللہ عرف خالد عمر بیت اللہ محسود سے اس سلسلے میں مشاورت کرسکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد