BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 March, 2008, 12:48 GMT 17:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان شاہراہ احتجاجاً بند

پاک افغان شاہراہ
ہزاروں گاڑیاں شاہراہ کی دونوں جانب کھڑی ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں مسلح قبائلیوں نے ایک مذہبی تنظیم کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ بند کر دی اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف پولیس نےگزشتہ روز پشاور کے علاقے شیخان میں ایک مزار پر حملے میں آٹھ افراد کو قتل کرنے کے جرم لشکر اسلام نامی مذہبی تنظیم کے امیر منگل باغ اور دیگر کارکنوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح درجنوں مسلح قبائل سڑکوں پر نکل آئے اور لنڈی کوتل اور جمرود میں دو مقامات پر پاک افغان شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کےلیے بند کردی ہے۔

مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں علاقے میں مذہبی شدت پسند تنظیم لشکر سے تحفظ فراہم کیا جائے جو ان کے بقول ایجنسی میں لوٹ مار اور بے گناہ افراد کو قتل کرنے میں ملوث ہے۔

مظاہرین کی قیادت کرنے والے خیبر امن کمیٹی کے صدر شاکر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی موجودگی میں دن دہاڑے لشکر اسلام کے امیرمنگل باغ اور ان کے مسلح حامی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کی گاڑیاں چھین رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک مقامی انتظامیہ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرتی پاک افغان شاہراہ نہیں کھولی جائےگی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شاہراہ صبح دس بجے سے بند ہے جس کی وجہ سے افغانستان سے آنے جانے والی ہزاروں گاڑیاں شاہراہ کے دونوں جانب کھڑی ہیں۔

ادھر گزشتہ روز پشاور کے علاقے باڑہ شیخان میں مزار پر حملے میں نوافراد کو قتل کرنے کے جرم میں لشکر اسلام کے امیر منگل باغ اور ان کے حامیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

تھانہ بڈھ بیر کے ایک اہلکار جان بادشاہ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ پیر کو شیخان کے علاقے میں مزار پر حملے میں نو افراد کو قتل کردیا گیا تھا جس کے جرم میں منگل باغ اور ان کے درجنوں ساتھیوں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔

گزشتہ روز کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کی نماز جنازہ منگل کی صبح پولیس کی سخت سکیورٹی میں شیخان گاؤں میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر سارے علاقے کو سیل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مذہبی تنظیم لشکر اسلام کے سینکڑوں کارکنوں نے شیخان گاؤں میں واقع بابا صاحب مزار پر حملہ کرکے نو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔ حملے میں لشکر اسلام کے ایک حامی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ شیخان گاؤں پشاور اور قبائلی علاقے باڑہ کے سنگم پر واقع ہے۔

بیت اللہ محسود فائل فوٹوالگ الگ طالبان
پاکستانی طالبان سے تنظیمی اظہارِ لاتعلقی
 طورخم نیا سرحدی کمپلیکس
طورخم پراکانوے کروڑ روپےکی لاگت کا منصوبہ
طور خم سکولسرحد پر قائم سکول
درجنوں طلباء روزانہ سرحد پار سے پاکستان آتے ہیں۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد