BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 July, 2007, 00:53 GMT 05:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چمن: پاک نیٹو مشترکہ اجلاس

پاک افغان سرحد
اجلاس کےدوران پاک افغان سرحدپر بھی پاکستان نےاپنی فورسز کوچوکس رہنے کی ہدایت کی تھی
نیٹواور پاکستانی حکام نے ایک بار پھر پاک افغان سرحد پرسکیورٹی کے انتظامات بہتر کرنے پر زور دیا ہے تاکہ طالبان سمیت دیگر ایسےافراد پر کڑی نظر رکھی جاسکےجو ان کی نظر میں مشکوک ہیں۔

بلوچستان کےسرحدی علاقے چمن میں جمعرات کو نیٹو اور پاکستانی حکام کے درمیان چارگھنٹے تک جاری اجلاس میں پاک فغان سرحد پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں شرکت کےلئے جب نیٹو کی پانچ رکنی ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے چمن پہنچی تو اس وقت نہ صرف شہر میں سخت سکیورٹی اقدامات کئے گئے تھے بلکہ پاک افغان سرحد پر بھی پاکستان نے اپنی فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایت کی تھی۔

پشین اسکاٹس کے صدر دفتر میں ہونے والےاس اجلاس میں نیٹو کی افواج کے وفد نے پاکستان سے کہا کہ وہ ان طالبان اور دیگر مشکوک افراد کے خلاف مزید اقدامات کریں جو بقول ان کے افغانستان کے جنوبی و مشرقی علاقوں میں نیٹو اور افغان دستوں پرحملے کے بعد فرار ہوکر پاکستان میں داخل ہوجاتے ہیں۔

آزاد ذرائع کے مطابق نیٹوکے وفد نے پاکستان کی جانب سےسرحد پرسکیورٹی کےحوالے سے کئے گئے اقدامات پرعدم اطمینان ظاہر کیاہے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی وفد نے بھی نیٹو پر واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی امن وامان کی صورتحال میں ان بلوچوں کا ہاتھ ہے جو بقول ان کے افغانستان میں ہیں۔

اجلاس میں پاکستانی وفد نےیہ الزام بھی لگایا ہے کہ افغان حکام نہ صرف انہیں اسلحہ دے رہے ہیں بلکہ جنگی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں بلوچستان میں داخل ہونے کے لئے مالی معاونت بھی کررہے ہیں۔

طورخم پاک افغان سرحد
نیٹو حکام نے بلوچستان کےسرحدی شہر کا جائزہ بھی لیا

اس سے قبل بھی کئی بار افغان صدر حامد کرزئی سمیت دوسرے حکام دعوے کرچکے ہیں کہ طالبان رہنماءملامحمدعمر کے سینکڑوں ساتھی کوئٹہ میں موجود ہیں مگرصدر جنرل پرویز مشرف سمیت وزارت خارجہ کے حکام نے بارہا اس کی تردید کی ہے۔

اجلاس کے بعد نیٹو کےحکام نے بلوچستان کےسرحدی شہر اور مختلف پہاڑی علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔

ایک طرف نیٹو اور پاکستانی فورسز کا اجلاس ہورہا تھا تو دوسری جانب متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان چمن کے دو مختلف مدرسوں میں طلبہ کے اجتماعات سے خطاب کررہے تھے جس میں1000سے زیادہ طلبہ کی دستار بندی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد