’ملا عمر کے ساتھی کوئٹہ سےگرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق طالبان رہنما ملاّ عمر کے متعدد اہم ساتھیوں کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ افغانستان کے خفیہ اداروں کے حکام نے بی بی سی کے چارلس ہیویلینڈ کو بتایا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی افواج نے ملا عمر کے چار اہم ساتھیوں کو ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار انتخاب امیر صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر ِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ اور سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے کوئٹہ سے طالبان کے چار سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر کی توثیق یا تردید کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ اتوار کی شام اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے بعد بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ اُنہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ اسی طرح سیکریٹری داخلہ سےجب پوچھا کہ کیا طالبان کے رہنما گرفتار کئے گئے ہیں تو اُنہوں نے کہا کہ اس اطلاع کی سچائی کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کو ئٹہ میں چیک پوسٹوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ روزانہ کا معمول ہے لیکن پھر بھی اس خبر کی سچائی کو جاننے کی ضرورت ہےالبتہ اُنہوں نےطالبان رہنماءملاعمر کے قریبی رفقاء کی گرفتاری سے متعلق خبر کی دوٹوک الفاظ میں تردید نہیں کی۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتارشدگان میں ملا عمر کی خط و کتابت اور رابطے کے ذمہ دار ملا جہانگیر اور ملا معید بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جن افراد کوگرفتار کیا گیا ہے ان میں افغان صوبے ارزگان کے طالبان کمانڈر ملا نذیر اور کابل میں طالبان کے کمانڈر ملا طاہر شامل ہیں۔افغان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ چاروں افراد ملا عمر کے انتہائی نزدیک تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران سرحد پار کارروائیوں کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور کچھ سینئر افغان حکام پاکستان پر طالبان کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے کا الزام بھی لگاتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر04 January, 2007 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی23 December, 2006 | آس پاس تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس اب ’ملا عمر‘ کا ٹیپ جاری25 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||