پشاور طالبان کے گھیرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مبینہ شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کا قلع قمع کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے پانچ ہزار اہلکاروں کے ہمراہ ٹینک ، بکتر بند گاڑیاں اور توپخانے پہنچاکر بظاہر صوبائی دارالحکومت پشاور کے دروازے پر شدت پسندوں کی دی گئی دستک کا پہلا جواب دیا ہے۔ پاکستان نے تقریباً پانچ سال قبل امریکہ کی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان سرحد کے قریب قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے شروع کی تھی جس کے ردعمل میں مبینہ شدت پسند قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع میں پھیل گئے۔ تقریباً ڈھائی ہزار سالہ قدیم پشاور شہر کی سٹریٹجک اہمیت کا اندازہ اس بات لگا یا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی منصوبہ بندی اس پر عملدرآمداور افغان مجاہدین کے مراکز یہاں پر واقع تھے۔ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے میں پشاور کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ اب اسلامی شدت پسندی کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں جاری جنگ میں بھی پشاور اب بھی وہی کردار ادا کر رہا ہے جو اس نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران ادا کیا تھا۔ تین ملین آبادی کے اس شہر کے محلِ وقوع پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات سامنے آجائے گی کہ اس کے چاروں طرف مبینہ شدت پسند ایک بھر پور قوت کے ساتھ موجود ہیں۔ پشاور کے مغرب میں خیبر ایحنسی واقع ہے جہاں کے باڑہ تحصیل میں تازہ کاروائی سے قبل لشکرِ اسلام نے اپنی حکومت قائم کی تھی جو لوگوں کو اپنی سوچ کے مطابق’ اسلامی سزائیں‘ دیتا رہا ہے۔
پشاور کے مضافات میں نقاب پوش مسلح افراد کو سرعام گھومتے ہوئے دیکھا گیا ہے جبکہ دو مرتبہ متنی اور ناصر باغ کے علاقے میں پولیس اور ان کے درمیان گھنٹوں تک باقاعدہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پشاور کے اہم فوجی چھاؤنی پرجہاں پر کور کمانڈر ہاؤس واقع ہےکئی بار راکٹ لانچر داغے گئے ہیں۔ بڈھ بیر اور شہر کے وسط میں واقع سی ڈی فلموں کے بڑے مرکز نشتر آباد میں دکانوں کو بم دھماکوں سے اڑانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ حکومت نے پشاور پر آہستہ آہستہ طالبانائزیشن کے پڑنے والے اثرات کا نوٹس اس وقت تک نہیں لیا جب تک قبائلی علاقے باڑہ سے آئے ہوئے شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے مسلح افراد نے شہر میں گھس کر عیسائی برادری کے سولہ افراد کو جبکہ پوش علاقے حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن سے چھ خواتین کو ’جنسی کاروبار‘ میں ملوث ہونے کے الزام میں اغواء نہیں کیاگیا۔ پشاور میں مبینہ شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں نے ان خدشات کو جنم دیا کہ پشاور طالبان کے ہاتھوں میں بہت جلد جانے والا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے یہی سوال میں نے صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا۔’یہ بالکل غلط بات ہے پشاور پر طالبان کا قبضہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہاں شہر کو ان شدت پسندوں سے مسلسل خطرہ ہے جس کے لیے سکیورٹی کا ایک جامع پلان تیار کرلیا گیا ہے اور اب اس پر علملدرآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔‘
ان کے بقول ان اقدامات کی بدولت اب پانچ چھ دنوں سے شدت پسندوں کا پشاور آکر وارداتیں کرنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔ ملک نوید کی طرح سکیورٹی ماہرین اور خطے کی حالات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین بھی پشاور پر طالبان کے قبضے کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔ سنیئر صحافی اور ایک قومی انگریزی چینل کے بیورو چیف بہروز خان کا کہنا ہے مبینہ شدت پسند پشاور میں امن و امان کی صورتحال کو خراب تو کر سکتے ہیں مگر اس پر قبضہ کرنا اور پھر اس سے برقرار رکھنا ناممکنات میں سے ہے۔
جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی ابتداء میں سکیریٹری سکیورٹی بریگیڈیئر( ریٹائرڈ) محمود شاہ بھی پشاور کے طالبان کے قبضے میں جانے کو محض ایک خیال سمجھتے ہیں۔ان کے بقول’پشاور میں گورنر، وزیراعلی اور کور کمانڈر ہاؤس کے علاوہ فوجی چھاؤنی، خفیہ اداروں کے بڑے دفاتر، غیرملکی قونصلیٹ اور تمام حکومتی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز موجود ہیں جنہیں حکومت اتنی آسانی سے کسی کے ہاتھوں میں جانے نہیں دے گی۔‘ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں آپریشن کی نگرانی کرنے والے فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل عالم خان سے جب ایک صحافی نے یہی سوال کیا تو انہوں نے مختصر سا جواب دیا: ’پشاور ہمارے ہاتھوں میں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||