امن کے لیے خیبر سے کراچی پیدل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کے علاقے حافظ آباد کے رہائشی کثرت رائے نامی نوجوان نے پاکستان اور دنیا میں انصاف، امن اور مساوات کے پیغام کو عام کرنے کے لیے درہ خیبر سے کراچی تک پیدل سفر کیا ہے۔ وہ پچاسی روز تک پیدل چلتے ہوئے سنیچر کے روز کراچی پہنچے جہاں انہوں نے مزار قائد پر حاضری دے کر اپنے سفر کا اختتام کیا۔ کثرت رائے کا کہنا ہے کہ اپنی منزل پر پہنچنے پر توقع کے برعکس کراچی انتظامیہ کے کسی عہدیدار نے اس کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ الٹا پولیس اہلکاروں نے انہیں مشکوک قرار دے کر تلاشی لی اور بے عزتی کی۔ ح
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ان کا تجربہ بہت اچھا رہا اور ان کی ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں، ثقافتوں اور مسائل کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا یہ سفر دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش تھی اور خاص طور پر اس کا مقصد دنیا میں اسلام اور پاکستان کا اچھا تاثر قائم کرنا اور یہ پیغام بھیجنا تھا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک لوگوں کو بنیادی حقوق نہ دیے جائیں، جب تک عالمی سطح پر منصفانہ پالیسیاں نہ بنائی جائیں اور جب تک حاکمانہ رویوں میں تبدیلی نہ پیدا کی جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’جو طاقتیں دنیا پر ہٹلرزم مسلط کررہی ہیں ان کا محاسبہ کیا جائے کیونکہ اس سے پوری دنیا کا امن تباہ ہورہا ہے اور اس وقت پوری دنیا میں جس چیز کا سب سے زیادہ مطالبہ ہورہا ہے وہ امن ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں اس سفر کے لیے کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی، اس کی صرف اخلاقی حمایت ساتھ رہی۔ کثرت رائے نے بتایا کہ انہوں نے اس سفر کے لیے کسی سے کوئی مالی مدد حاصل نہیں کی۔ | اسی بارے میں قزاقستان کا امن سفیر27 July, 2004 | پاکستان بھارت کے امن پیامی پاکستان میں11 December, 2003 | پاکستان بیت اللہ کا سفر سائیکل پر20 August, 2006 | انڈیا بوڑھا سینکڑوں میل پیدل سفر پر روانہ 28 November, 2004 | انڈیا بھارت: گرین پیس کا انوکھا مظاہرہ27 July, 2005 | انڈیا ’جرگہ امن کی آخری کوشش ہے‘12 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||