BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 August, 2006, 11:22 GMT 16:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ کا سفر سائیکل پر

عازمِ حج
سات ارکان پر مشتمل یہ ٹیم اب تک تین سو کلومیٹر کا سفر طے کر چکی ہے
ایک زمانہ وہ تھا جبکہ ہندوستان سے عازمین حج کے قافلے کافی طویل عرصہ پہلے ہی گھروں سے رخصت ہوجاتے تھے کیونکہ انہیں ہزاروں میل کا یہ مقدس سفر پیدل یا پھر اونٹوں کی پشت پر یا کشتیوں میں کرنا پڑتا تھا۔

زمانہ بدلا، پہلے بحری جہاز آئے اور پھر طیاروں نے تو مسافت کو چند گھنٹوں کے دائرے میں سمیٹ کے رکھ دیا لیکن ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس سفر کو اس کے پرانے انداز میں طے کرنا چاہتے ہیں۔ اسی زمانۂ قدیم کی یاد تازہ کرتے ہوئے حیدرآباد سے سات عازمینِ حج کا ایک قافلہ اس وقت سائیکلوں پر مکہ مکرمہ کی سمت رواں دواں ہے۔

اس قافلے کے ارکان میں محمد حنیف، شیخ برہان قادری، شمشیر خان، عبدالقادر، یوسف خان، محمد خواجہ اور شیخ رفیق شامل ہیں۔ یہ قافلہ جس میں شامل زیادہ تر لوگوں کی عمریں ساٹھ برس یا اس سے زیادہ ہیں، اس بات کی منہ بولتی تصویر ہے کہ ضعیفی اور کمزوری بلند اور پختہ ارادوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ 60 سالہ محمد حنیف کی زیرِقیادت یہ ٹیم اب تک تین سو کلومیٹر کا سفر طے کر چکی ہے اور آندھراپردیش کے بعد اب مہاراشٹر میں داخل ہوگئی ہے۔ دہلی اور امرتسر سے ہوتے ہوئے یہ قافلہ واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوگا۔

تین سال کا سفر
 قافلے کے ارکان کو امید ہے کہ وہ یہ سفر سائیکلوں پر تین سال میں مکمل کر لیں گے اور سن 2008 ء یا 2009ء میں فریضۂ حج ادا کریں گے۔

قافلے کے ایک رکن شیخ برہان قادری کا کہنا تھا ’ہم پاکستان، افغانستان، ایران، عراق اور کویت سے ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم یہ سفر آسانی کے ساتھ پورا کرلیں گے‘۔

روزانہ 50 کلومیٹر کی مسافت طے کرنے والے اس قافلے کے ساتوں ارکان آٹو رکشا ڈرائیور ہیں اور یہ سب ایک غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ قافلے کے ایک رکن محمد حنیف کہتے ہیں کہ ’مشکلات کا کیا ہے وہ آئیں گی ہی ہمارا کام صبر کرنا ہے، اور اللہ سے دعا کرنا ہے‘۔

یہ سب لوگ پہلے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے لیکن جیسے ہی محمد حنیف کے عزم کی خبریں پھیلیں یہ لوگ بھی یکے بعد دیگرے ان کا ساتھ دینے کے لیئے آگے آئے۔ یہی نہیں بلکہ کئی دوسرے لوگوں نے بھی اس سلسلے میں تعاون کیا اور ان کے لیئے نئی سائیکلوں کا بندوبست کیا گیا۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ انہیں اس سفر کا خیال اس لیئے آیا کہ اس سے پہلے بہار اور اڑیسہ کے ایک ایک عازمِ حج نے یہ سفر پیدل ہی طے کیا تھا۔ 1982 ء میں بہارکے محمد حبیب نے 12 سال کے طویل عرصے میں یہ سفر پیدل طے کیا تھا اور اس کے بعد 1984ء میں کٹک اڑیسہ کے 60 سالہ محمد فضل نے بھی اسی طرح سفرِ حج کیا تھا۔

 ہم پاکستان، افغانستان، ایران، عراق اور کویت سے ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم یہ سفر آسانی کے ساتھ پورا کرلیں گے۔
شیخ برہان قادری

محمد حنیف اور ان کے قافلے کے ارکان کو امید ہے کہ وہ یہ سفر سائیکلوں پر تین سال میں مکمل کر لیں گے اور سن 2008 ء یا 2009ء میں فریضۂ حج ادا کریں گے۔

یہ قافلہ اس معاملے میں کس حد تک پر عزم ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے مختصر سامان سفر میں کفن بھی رکھا ہے کہ اگر راستے میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو قافلے کے دوسرے ارکان اسے وہیں دفن کر کے اپنا آگے کا سفر جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں
داڑھی منڈوا دو
23 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد