| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے امن پیامی پاکستان میں
بھارت سے سیاسی کارکنوں، صحافیوں، وکلاء مزدوروں اور سماجی تنظیموں کے اڑھائی سو افراد پر مشتمل ایک وفد کراچی میں منعقد ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو واہگہ کے راستے لاہور پہنچ گیا ہے۔ اس وفد میں اداکار شبانہ اعظمی اور نصیرالدین شاہ شامل نہیں ہیں۔ پاکستان انڈیا پیپلز فورم براۓ امن و جمہوریت کے زیرِ اہتمام تیرہ اور چودہ دسمبر کو کراچی میں ہونے والے چھٹے کنوینشن میں شرکت کے لیے یہ سب لوگ جمعرات کی شام کو ہی بذریعہ ریل کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ غیر سرکای فورم انیس سو چورانوے میں بنا تھا اور دو سال سے دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اس کا اجلا س منعقد نہیں ہوسکا تھا۔ فورم کا ایک کنوینشن پاکستان میں اور دوسرا ہندوستان میں ہوتا ہے اس سے پہلے بنگلور میں پانچواں کنوینشن منعقد ہوا تھا۔ پاکستان میں فورم کے روح رواں ڈاکٹر مبشر حسن نے بی بی سی اردو کوبتایا کہ اس بار خاص بات یہ ہے کہ کنوینشن میں تجویز دی جاۓ گی کہ فورم ایک نعرہ اختیار کرے کہ ”تقسیم کو خاطر میں نہ لاؤ اور امن کے لیے ایک ہوجاؤ: (Defy (divide, unite for peace ڈاکٹر مبشر حسن کا کہنا ہےکہ پیپلز فورم کا موقف رہا ہے کہ علاقے میں جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہو، فوجوں میں کمی ہو اور جموں و کشمیر کے مسئلہ کا وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاۓ۔ فورم کے ہندوستان سے سرگرم کرتا دھرتا گوتم نولکھا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بار اور باتوں کے علاوہ فورم کے شرکاء زور دیں گے کہ جنوب ایشیائی تنظیم برائے تعاون و ترقی (سارک) کے ممالک ایک دوسرے کے شہریوں کے لیے ویزا کی سختیوں کو دور کریں اور ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا آسان بنائیں۔ واہگہ سرحد پر ہندوستان سے فورم کے شرکا کا آنا صبح نو بجے شروع ہوگیا تھا او دوپہر ایک بجے تک جاری تھا۔ لاہور میں آئی ہوئی مشہور فلم ایکٹریس ارملا کے والدڈاکٹر مبشر حسن سے ملنے آۓ اور ان سے ارملا کے لیے فورم کے کنوینشن میں شرکت کے لیے کراچی کا ویز دلوانے کی درخواست کی۔ واہگہ پر ہندوستانی وفد کےارکان کے لیے فورم نے ایک بڑے خیمہ میں شام تک رہنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا تھا جبکہ سیکیورٹی اور امیگریشن اور کسٹم کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا گیا تھا۔ وفد میں تیس چالیس فیصد عورتیں ہیں جن کا تعلق لیبر یونینوں، یونیورسٹیوں اور سماجی تنظیموں سے ہے۔ اشوک مترا فورم کے ہندوستان باب کے چئیرمین ہیں اور اس کے کرتا دھرتاؤں میں تپن بوس بھی شامل ہیں۔ ہندوستان سے آنے والے وفد کے ارکان کو لاہور اور کراچی کے شہروں کے لیے دس روز کے ویزے دیے گۓ ہیں۔ ہندوستان سے آنے والے کشمیر سے آنے والے وید بھسین کشمیر ٹائمز گروپ آف پبلیکیشنز کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا دونوں ملکو ں کے درمیان تناؤ پیدا کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا میڈیا تنگ نظر (شاؤنسٹک) ہے۔ ڈیلی ٹیلیگراف کے مدیر بھارت بھوشن بھی وفد میں شامل ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات ہوں اور جب لوگ چاہیں گے تو حکومتیں کیسے نہیں چاہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بدل رہی ہے اور اس ماحول میں ہندوستان اور پاکستان مخالف سمتمیں کیسے جاسکتے ہیں۔ بھارت بوشن کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کےلیے بھی ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے رشتے ہوں اور لوگ ایک دوسرے کے ملک میں آئیں جائیں اور کشمیر کے لوگ بھی دونوں طرف آئیں جائیں تو اس مسئلہ کے حل کے لیے ماحول بنے گا۔ دلی یونیورسٹی میں تاریخ کی ایک طالبہ طاہرہ تھاپر نے کہا کہ وہ پہلی بار پاکستان آئی ہیں اور بہت پرجوش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان دیکھنا چاہتی ہیں ان کو دونوں ملکوں میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ دہلی میں مین اسٹریم ماہنامہ کے مدیر سمیت چکرورتی نے کہا کہ ہندوستان کے لوگ کسی بھی طرح پاکستان کے مخالف نہیں ہیں اور وہاں لوگوں میں پاکستان کے بارےمیں ایک خیر سگالی کا اچھا خاصا جذبہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح دونوں ملکو ں کے درمیان کانفرنسوں سے اور اچھا ارثر پڑتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||