BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبرایجنسی میں دو مراکز تباہ

خیبر ایجنسی میں جن مکانات کو تباہ کیا گیا ان میں دو تنظیموں کے دفاتر تھے
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک دن کی خاموشی کے بعد مبینہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف مزید کارروائیاں کرتے ہوئے دو تنظیموں کے مراکز کو دھماکہ خیز مواد میں تباہ کیا ہے۔ حکام نے کرفیو کے خلاف ورزی کرنے کے جرم میں بھی چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائی میں باڑہ سے چند کلومیٹر دور منڈی کس سپاہ اور ملک دین خیل نالہ میں واقع پیر سیف الرحمان اور مفتی منیر شاکر کے گھروں کو بارودی مواد کے دھماکوں میں تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ تباہ کئے جانے والے گھر لشکر الاسلام اور انصار الاسلام کے حامی مراکز کے طورپر استعمال کرتے تھے جہاں سے ان کے مطابق غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینلز بھی چلائے جاتے تھے۔

اہلکار کے مطابق حکومتی اہلکاروں نے باڑہ کے حدود میں کرفیو کے خلاف ورزی کے جرم میں چار افراد کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ سکیورٹی فورسز نے باڑہ سے کجھوری تک تمام علاقے کو شدت پسندوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد سے صاف کرکے وہاں حکومت کی علمداری بحال کردی ہے۔

ایک مکان سے ایف ایم ریڈیو بھی چلایا جا رہا تھا

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج صبح تازہ کارروائی سے پہلے سکیورٹی فورسز نے لاؤڈ سپیکروں سے اعلان کر کے علاقے میں کرفیو نافذ کیا جبکہ باڑہ تحصیل کو جانے والے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

باڑہ کے ایک مقامی صحافی قادر خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں چوتھے روز بھی تمام بازار، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جس سے مقامی باشندوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

واضح رہے کہ سنیچر کو سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقے باڑہ میں بعض مبینہ شدت پسندوں تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں حکومت کے مطابق لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے کئی مراکز کو مسمار یا دھماکہ خیز مواد میں تباہ کیا جاچکا ہے۔ اس آپریشن میں تاحال کسی تنظیم کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد