کرم ایجنسی سے آٹھ لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ اٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں نہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ لوئر کرم ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عطاؤ الرحمان نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ گزشتہ روز خپیا نگا کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اٹھ افراد کو اغواء کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے تمام مغویوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں مندوری کے علاقے میں سڑک کے کنارے پھینکے تھے۔ اہلکار کے مطابق انتظامیہ نے لاشیں تحویل میں لیکر واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس قتل کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کے ہاتھ پیچھے سے باندھے ہوئے تھے جبکہ ان کی آنکھوں پر بھی پٹیاں باندھی گئی تھیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک کئے جانے والے چھ افراد کا تعلق خپیا نگا سے بتایا جاتا ہے جبکہ دو افراد نامعلوم ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق جرائم پیشہ گروہوں سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال سے حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ علاقے میں تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں کئی ماہ سے بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں خیبر ایجنسی میں آپریشن جاری29 June, 2008 | پاکستان خیبر آپریشن: رات بھر خاموشی29 June, 2008 | پاکستان طالبان نے مذاکرات معطل کردیے29 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی باڑہ میں دھماکہ سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن: لوگوں کا نقصان، مذہبی تنازعے30 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||