رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ’ہمیں اپنے امیر (بیت اللہ محسود ) نے مذاکرات معطل کرنے کاحکم دیا ہے:طالبان |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات اور نیم خودمختار قبائلی علاقہ درہ آدم خیل میں مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ جاری ہر قسم کے امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے مطابق یہ اعلان تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے حکم پر کیا جارہا ہے۔ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود نے گزشتہ روز حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا لہٰذا سوات کے طالبان بھی اسی تنظیم کا حصہ ہیں اس لیے وہ بھی سرحد ی حکومت کے ساتھ جاری بات چیت تاحکم ثانی معطل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنے امیر (بیت اللہ محسود ) نے مذاکرات معطل کرنے کاحکم دیا ہے جس کے بعد حکومت کے ساتھ جاری تمام بات چیت فوری طورپر معطل کی گئی ہے۔ ’ انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد سوات کے مقامی طالبان کل سرحد حکومت کے ساتھ ہونے والی نشست میں شرکت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت تحریک کے مطالبات منظور نہیں کرتی اس وقت تک کوئی امن بات چیت نہیں ہوگی۔ ادھر نیم خودمختارقبائلی علاقہ درہ آدم خیل میں بھی مقامی طالبان نے بیت اللہ محسود کے کہنے پر مقامی انتظامیہ سے جاری ہر قسم کے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر طارق نے بی بی سی کے رپورٹر عبد الحئی کاکڑ کو فون پر بتایا کہ ان کی مقامی انتظامیہ سے بات چیت جاری تھی اور اس سلسلے دونوں طرف قیدیوں کا بتادلہ بھی ہوا تھا۔ تاہم کمانڈر نے الزام لگایا کے مذاکرات کے باوجود سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے گھروں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان کے چند ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس مرتبہ لڑائی شروع ہوئی تو جنگ کا میدان سرحد نہیں بلکہ کوئی اور علاقہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے حکومت پر خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے اس سے جاری ہر قسم کے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انہوں نے حکومت کے خلاف کسی قسم کی کاروائی شروع کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ |