BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 June, 2008, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی میں آپریشن جاری

خیبر ایجنسی
تحصیل باڑہ میں تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے گزشتہ روز شروع کیا جانے والا آپریشن اتوار کو جاری رہا جس میں مبینہ شدت پسند تنظیم انصار الاسلام کے ایک مرکز کو تباہ کیاگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے باڑہ تحصیل کے علاقوں شلوبر اور اکاخیل میں شدت پسند تنظیموں کے مراکز اور ٹھکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔


انہوں نے کہا کہ شلوبر میں مبینہ شدت پسند تنظیم انصار الاسلام کے ایک مرکز جس پر لشکر اسلام کے حامی قابض تھے ، کو تباہ کردیا گیا۔

فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل عالم خٹک کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا سب سے بڑا مقصد پشاور کے مضافات میں گزشتہ کچھ عرصے سے جرائم کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لشکر اسلام کے نائب امیر مصری گل کے گھر کو بھی نشانہ بنایا ہے تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اہلکار نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے تحصیل باڑہ کے کئی علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں حکومت کی عمل داری بحال کردی ہے۔

ادھر گزشتہ روز شروع کئےگئے آپریشن میں تاحال کسی تنظیم کی طرف سے سکیورٹی فورسز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

باڑہ میں لشکر اسلام کے ایک اہم کمانڈر رحمان شاہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کریگی کیونکہ ان کے بقول ان کا کام باڑہ میں اسلامی نظام کا نفاذ اور جرائم کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ان کے کمانڈر منگل باغ کو بھی گرفتار کرلے تب بھی وہ کسی سکیورٹی اہلکار پرحملہ نہیں کرینگے۔

باڑہ میں کل سے تمام بازار اور تجارتی مراکز بدستور بند ہیں۔ علاقے میں غیر اعلانیہ طورپر کرفیو نافذ ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

پشارو سے باڑہ تک تقربباً چھ کلومیٹر کے اس فاصلے پر پولیس اور فرنٹیر کور کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں جبکہ اہلکار سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
دو دھماکوں میں دو ہلاک
23 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد