کرم ایجنسی: 44ایف سی اہلکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز طوری قبائل کی طرف سے اغواء کئے جانے والےفرنٹیر کور کے چوالیس اہلکاروں کو مقامی جرگہ کے توسط سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کرم ایجنسی کے ایک اہلکار طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو پارہ چنار سے اپر کرم کے علاقے پیواڑ جانے والے فرنٹیر کور کے ایک قافلے کو طوری قبائل نے یرغمال بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قبائل کا مطالبہ تھا کہ پیواڑ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری فرقہ وارانہ جھڑپیں فوری طورپر بند کرایا جائے جبکہ علاقے میں بند تمام شاہراہیں کھولنے کے علاوہ لوگوں کو بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ طوری قبائل کو اطلاع تھی کہ سرکاری گاڑیوں میں مخالف مینگل قبائل ایف سی اہلکاروں کی وردیاں پہن کر تری منگل جا رہے ہیں جس پر تمام گاڑیوں کوگھیرے میں لے کر انہیں یرغمال بنایا لیاگیا۔ سرکاری اہلکار کے مطابق ایف سی اہلکاروں کی بازیابی کےلیے پارہ چنار سے ایک جرگہ بھیجا گیا جس نے مقامی انتظامیہ کی توسط سے کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد رات کے دو بجے تمام یرغمالیوں کو بازیاب کر لیا ہے۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ کئی ماہ سے امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی لوئر کرم ایجنسی کے علاقے مندوری سے اٹھ افراد کی لاشیں ملی تھیں جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ قبائلی اور بعض بندوبستی علاقوں میں ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداراوں کے اہلکاروں کے دن دہاڑے اغواء ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ بعض علاقوں میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ سے وہاں حکومت کی کمزور عملداری کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں کرم کے بہتر حالات کے لیے مظاہرہ23 June, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی میں آٹھ افراد ہلاک19 June, 2008 | پاکستان قیام امن میں ناکامی پر جرگہ گرفتار20 May, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: فسادات کا نوواں دن12 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی کیلیے سو رکنی جرگہ30 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||