عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | کسی معاملے کا حل فوج کشی نہیں بلکہ مذاکرات ہیں |
مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما چودھری نثار علی خان نے قبائلی علاقے خبیر ایجنسی میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ پیر کی رات پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی نے کہا کہ کسی معاملے کا حل فوج کشی نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ ان کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے اس آپریشن کے بارے میں ان کو اعتماد میں نہیں لیا ہے، تاہم مسلم لیگ نون نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کرے گی۔ ان کے بقول ’پاکستان میں امن کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے اپنے لوگوں کو کسی قسم کے تشدد کرنے سے حالات بہتر نہیں ہونگے‘۔ ان کا کہنا ہے اگر کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہتے تھے تو یہ فیصلہ کسی ایک شخص، ایک جماعت اور صورت میں بھی پاکستانی فوج نہ کرتی بلکہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جاتا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے عام اجلاس میں پالیسی کی تشہیر نہیں جاسکتی تو بند اجلاس میں اس معاملے پر بحث ہوسکتی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں اس معاملے پر بند اجلاس کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ پاکستانی عوام کو بھی اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں کیا ہو رہا ہے۔
 | فوجی آپریشن کے حق میں ریلی  لاہور میں پیپلز پارٹی نے قبائلی علاقے میں فوجی آپریشن کے حق میں ایک پرامن ریلی نکالی جس کی قیادت پنجاب کابینہ میں پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کی  |
انہوں نے کہا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ان کی جماعت مسلم لیگ نون کو اعتماد میں نہ لینے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی پر بات کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ پاوچر منگل کو لاہور میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور اس ملاقات میں اس آپریشن کے بارے میں بھی بات کی جائے گی۔ ادھر لاہور میں پیپلز پارٹی نے قبائلی علاقے میں فوجی آپریشن کے حق میں ایک پرامن ریلی نکالی جس کی قیادت پنجاب کابینہ میں پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کی۔ یہ ریلی لاہور پریس کلب سے شروع ہوئی اور پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوئی۔ ریلی میں شامل افراد نے پیپلز پارٹی کے جھنڈوں کے علاوہ سفید پرچم بھی اٹھا رکھے تھے اور امن کے قیام اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ |