بد اعتمادی، الزام تراشیوں کی فضا کا فائدہ کس کو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سربراہی میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقریبا چھ سال سےزائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ لیکن افغانستان اور پاکستان میں طالبان کا قلع قمع کرنے میں امریکہ، نیٹو ممالک، افغان اور پاکستان کی حکومتیں بد اعتمادی، الزام تراشیوں اور دھمکیوں کے دائرہ میں کچھ اس طرح پھنسں چکی ہیں کہ نتیجے کے طور پر امریکہ کے خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان افغانستان کے دس فیصد جبکہ حامد کرزئی کی حکومت محض تیس فیصد علاقے پرقابض ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے پاکستان کے اندر گھس کر طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود، مولانا فضل اللہ اور مولوی عمر کو ہلاک کرنے کے غیر متوقع اور غیر معمولی بیان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دو اہم اور ناگزیر اتحادی ممالک کے تعلقات کو بظاہر بد اعتمادی کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان کو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والے واقعات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ امریکی میزائلوں کا نشانہ بننے والے پاکستان نے پہلی مرتبہ مہمند ایجنسی میں اتحادی افواج کی بمباری میں گیارہ فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئےسخت لب ولہجہ کا استعمال کیا تھا۔ پاکستان نے اس سے ایک بزدلانہ اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے مفاد کے خلاف جارحانہ کاروائی قرارددیا تھاجبکہ جواب میں پینٹاگون نے فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےاس ایک جائز کارروائی کہا تھا۔ جس دن پاکستان نے مہمند ایجنسی کی کارروائی پر احتجاج کیا اسی دن جنوبی وزیرستان کو ایک اور حملہ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے تین دن بعد پاکستانی طالبان نے افغانستان میں پہلی مرتبہ کسی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صوبہ ننگر ہار میں اتحادی افواج کے ایک قافلے پر مبینہ خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار افغان صدر حامد کرزئی کی نظروں میں ہمیشہ مشکوک رہا ہے مگر ماضی کے برعکس ان کا الزام تراشیوں اور تنقید سے بھر پور لہجہ اب جارحانہ سا ہوگیا ہے۔ پہلے ان کا الزام تھا کہ دہشت گردی کی مبینہ تربیت گاہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں تاہم اس بار انہوں افغان فوج کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں گھس کر حملہ کرنے کی باقاعدہ دھمکی دیدی ہے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں گھس کرحملہ کرنے کی دھمکی تو افغان صدر حامد کرزئی نے دیدی ہے مگر ان کے لہجہ اور الفاظ کا انتخاب امریکہ اور اتحادی افواج کا ہی ہوسکتا ہے۔ افغان صدر نے حملے میں افغان فوج کے استعمال کی بات کی ہے حالانکہ چند ماہ قبل انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ افغان فوج کی تعداد اور ان کی تربیت ایسی نہیں ہے کہ وہ ملک کے اندر طالبان کی مزاحمت سے نمٹ سکے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے یہ بات بھی قابال تشویش ہوسکتی ہے کہ اصل میں افغان فوج سے مراد امریکی یا اتحادی فوج ہی ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی حکومت کاحامد کرزئی کے اس بیان پر شدیدردعمل آنا ایک فطری عمل ہے تاہم طالبان سے امن مذاکرات کے بعد ان کے سرحد پار جانے میں اضافے کا ثبوت اب خود طالبان ہی فراہم کررہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک طالبان کو عملاً سرحد پار کر کے اتحادی افواج پر حملوں سے نہیں روکا جاتا تب تک طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ دیر پا ثابت نہیں ہوسکتا اور پاکستان کے امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ تعلقات ناہمواراور جارحانہ ہی ہونگے۔ دوسری طرف امریکہ، پاکستان اورافغانستان کے درمیان اس قسم کی بیان بازی اور بڑھتی ہوئی بد اعتمادی کا براہ راست فائد سرحد کے آر پار سرگرم طالبان کو ہی پہنچے گا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی میں دراڑ پڑجائے گی اور ان کی مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کی جانے والی طاقت تقسیم ہوجائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||