خیبر: لشکرِ اسلام کا کمانڈرگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری کارروائی کے دوران حکام نے مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے ایک کمانڈر سمیت نو مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لشکرِ اسلام کے ایک کمانڈر عمل خان کو ان کے نو مسلح ساتھیوں سمیت تحصیل باڑہ سے بدھ کی صبح گرفتار کیا گیا۔ حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ عمل خان تیراہ میں انصارالاسلام اور لشکرِ اسلام کے درمیان جاری جھڑپوں میں حصہ لینے کے لیے جا رہے تھے۔ حکام کے بقول گرفتارشدگان سے ہلکا اور بھاری اسلحہ بھی قبضہ میں لیا گیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے بقول بدھ کو دوسرے روز بھی تحصیل باڑہ میں کرفیو برقرار رہا جبکہ باڑہ بازار اور دیگر حکومتی دفاتر مکمل طور پر بند رہے۔ ان کے مطابق اس دوران اکیس افراد کو کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کی نسبت بدھ کو کرفیو میں قدرے سختی نظر آئی اور باڑہ اور پشاور کو ملانے والے زیادہ تر راستے بھی بند رہے۔ حکومت نے پانچ روز قبل تحصیل باڑہ میں مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جس دوران سکیورٹی فورسز نے تنظیم کے کئی مراکز کو تباہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے اور اس کے علاوہ لشکرِ اسلام کے امیر منگل باغ اور دیگر رہنماؤں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔تاہم سکیورٹی فورسز کو اس آپریشن کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور نہ ہی تنظیم کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔ دریں اثناء باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے داغے گئے میزائل حملے میں دو عام پاکستانی شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح باجوڑ میں سرحد کے قریب پاکستانی حدود میں بعض مبینہ شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر ر راکٹوں سے حملہ کردیا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس میں تین شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ باجوڑ کے غاشی پاس کے علاقے میں افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ایک میزائل آ کر گرا ہے جس کے نتیجے میں ان کے دعوے کے مطابق دو عام شہری ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستانی فوج نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور اس کو پاکستانی حدود کے اندر مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپ قرار دیا ہے۔ افغانستان سے میزائل داغے جانے کے واقعے کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ |
اسی بارے میں خیبرایجنسی میں دو مراکز تباہ01 July, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی سے آٹھ لاشیں برآمد 30 June, 2008 | پاکستان پشاور طالبان کے گھیرے میں29 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||