BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 June, 2008, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت سےامن بات چیت معطل‘

بیت اللہ محسود(فائل فوٹو)
’حکمراں جماعتوں نےصدر مشرف والی زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے‘
تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پر اپنے انتخابی وعدوں کی خلاف ورزی کرنے اور کئی علاقوں میں آپریشن شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ داخلہ رحمان ملک نے مذاکرات کی معطلی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بیت اللہ سے نہ پہلے کبھی کوئی بات چیت کی اور نہ ہی اب کر رہی ہے۔

تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ درہ آدم خیل، عمر اڈا، جنڈولہ کے ایک گاؤں اور ٹانک میں سیکورٹی فورسز نے کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جو بقول ان کے بلاجواز ہیں۔ تاہم انہوں نے خیبر ایجنسی میں فوج کی حالیہ کارروائی کا دکر نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابات سے قبل امن کی بات کی تھی جس کی وجہ سے عوام نے انہیں ووٹ دیے۔ لیکن انہیں شکایت تھی کہ انتخابات کے بعد اب حکمراں جماعتوں نے بھی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف والی زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے حکومت پر ’بدمعاشی کی زبان‘ استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل میں حکومت کو مطلوب بیت اللہ محسود نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے حکومت کے سوات سمیت جن جن علاقوں میں مذاکرات جاری تھے وہ سب اس اعلان کے بعد معطل تصور کیے جائیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی کارروائیاں ابھی شروع نہیں کریں گے۔

ان سے جب دریافت کیا گیا کہ حکومت کو شکایت ہے کہ مقامی طالبان مذاکرات اور امن معاہدوں کے درپردہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو بیت اللہ محسود نے اس کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک صرف سکیورٹی فورسز کی جانب سے کسی کارروائی کا جواب دیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کو اپنی کارروائیاں روکنی ہوں گی اور حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی تب ہی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
بیت اللہ محسود

بیت اللہ محسود کے تازہ بیان سے حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس اعلان پر ابھی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جنڈولہ کے قریب نعمت خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حمایت یافتہ قبائلی ترکستان کے خلاف گزشتہ دنوں اپنی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شخص کی شکایت انہوں نے بار بار فوجی رہنماؤں سے کی تھی تاہم ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آنے پر یہ کارروائی کی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ترکستان کے تین دیگر ساتھیوں نصراللہ، میربز اور شان گل کے علاوہ نعمت خیل قبیلے کے کسی شخص کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے بارے میں بیت اللہ محسود نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو اپنی کارروائیاں روکنی ہوں گی اور حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی تب ہی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

دریں اثناء رحمان ملک نے بی بی سی اردو کے ذوالفقار علی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھ پہلے کبھی مذاکرات کیے نہ کر رہی ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کبھی کوئی واسطہ یا لین دین رہا ہے‘۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی دنوں سے اشارے مل رہے تھے کہ وہ بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر قابو پانے کے لیئے کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس بارے فوج سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تمام عسکری سرگرمیوں کا انچارج بھی مقرر کیا گیا تھا۔

مقامی طالبان(فائل فوٹو)ناکام حکمت عملی
’طاقت کی بجائے بات چیت سے بات نہیں بنی‘
ملا عمرایک چھوٹا کردار؟
’امریکہ کے لیے پاکستانی طالبان زیادہ اہم نہیں‘
شدت پسندحامی یا مخالف
کیا ملا نذیر حکومت کے خلاف تیاری کر رہے ہیں
بیت اللہ محسودامیر بیت اللہ محسود
بیت اللہ ہی ہمارے امیر ہیں: طالبان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد