بیت اللہ محسود: ایک چھوٹا کردار؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کی گزشتہ چار برسوں کی عسکری بلکہ سیاسی حکمت عملی بھی اب تک کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔ جنگی میدان میں سبقت لینے کے بعد انہوں نے سیاسی میدان میں بھی اپنا مؤقف گزشتہ دنوں اپنی پہلی باضابطہ اخباری کانفرنس میں واضح کر دیا۔ اس شخص نے جسے صدر پرویز مشرف اور امریکی میڈیا موجودہ وقت میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں اور جس کے خلاف پاکستانی عدالتوں کی جانب سے اب باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، جس ’بے باکی‘ سے اسلام آباد اور پشاور کے صحافیوں کو طلب کیا اس سے بیت اللہ کی مؤثر حکمت عملی کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس وقت بیت اللہ محسود کو جنوبی وزیرستان کے کم از کم محسود علاقوں کا ’بادشاہ‘ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ٹیلیفون کے ذریعے صحافیوں کو آنے کی دعوت، کالوروغہ کے مقام پر ایک سرکاری ہائی سکول کی عمارت میں ان سے تفصیلی ملاقات، کئی گھنٹوں تک وہاں موجودگی اور بعد میں سیٹلائیٹ فون پر درجنوں صحافیوں کی اپنے اپنے چینلز کو تفصیلات ریکارڈ کروانے کے باوجود پاکستان اور امریکہ کو انتہائی مطلوب شخص کے خلاف کسی کارروائی کے نہ ہونے پر سب حیران و پریشان ہیں۔ لیکن شاید سب یہ بھول رہے ہیں کہ بیت اللہ محسود کے آج کل نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات کافی خوشگوار ہیں۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی شدت پسند سے مذاکرات نہیں کرے گی لیکن تحریک طالبان سے اس کے جرگے جاری ہیں۔ اس وقت فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی ہے جس کا شاید فائدہ اٹھا کر بیت اللہ محسود نے یہ پہلی اخباری کانفرنس منعقد کی۔ فوج پہلے ہی اکثر محسود علاقوں سے نکل چکی ہے لہٰذا پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے وہاں کارروائی کا امکان کم ہی تھا۔ جہاں تک بات ہے امریکی اور نیٹو فورسز کی تو شاید ان کے لیے القاعدہ کے عرب شدت پسند پاکستانی طالبان سے زیادہ اہم ہیں۔
امریکیوں نے پریڈیٹر جاسوسی طیارے سے میزائل پاکستان میں اب تک وہاں داغے جہاں انہیں القاعدہ کے غیرملکی رہنماؤں کی موجودگی کا شک تھا۔ محض پاکستانی طالبان کے لیے انہوں نے اپنے میزائل استعمال کرنا مناسب یا مفید نہیں سمجھا ہے۔ قبائلی جنگجو رہنما نیک محمد کی ہلاکت کے وقت بھی کچھ اطلاعات کے مطابق ان کے ساتھ غیرملکی موجود تھے۔ اس کا ایک اور ثبوت اب تک امریکہ کی جانب سے بیت اللہ محسود کے زندہ یا مردہ پکڑے جانے پر کوئی انعام بھی نہ رکھنا ہے۔ دو بڑے پہلوانوں کی لڑائی میں جب کوئی چھوٹا کمزور سا شخص چھلانگیں مارنے لگے اور حد سے زیادہ تنگ کرے تو ایک پہلوان اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ اسے تُو پکڑ۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نیگروپونٹے کا گزشتہ دنوں حکومت پاکستان سے شاید بیت اللہ کی گرفتاری کا مطالبہ اسی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب بیت اللہ محسود اب تک کی رنجشوں، تلخیوں اور جانی و مالی نقصانات کے باوجود حکومت پاکستان سے تو بات چیت کو تیار ہیں لیکن امریکہ ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ صحافیوں سے ملاقات میں انہوں نے امریکہ کو اپنا ’ذاتی دشمن‘ قرار دیا جس سے براہ راست تو کیا کسی صورت میں بھی بات چیت ممکن نہیں۔ بیت اللہ پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل یا حکومت سے مذاکرات کی بابت بیانات دیتے ہوئے ڈپلومیسی سے کام لیتے ہیں لیکن جب بات امریکہ کی آتی ہے تو یہ اقرار ببانگ دہل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی موجودگی تک ان کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ اس اصرار کے سبب ان کے لیے تو جو ہو سو ہو حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ یقینی ہے۔ نیٹو کمان نے پہلے ہی حکومت پاکستان کو ایسے امن معاہدے کرنے سے منع کیا ہے جس سے مغربی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑیں۔ لڑکپن سے افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر لڑنے والے بیت اللہ کے خیالات سے واضح ہے کہ ان کا ایجنڈا محض قبائلی علاقوں یا افغانستان تک محدود نہیں۔ ان کی تحریک نے پہلے ہی وزیرستان اور باجوڑ سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور وہاں کامیابی کے بعد یقیناً ان کا اگلا ہدف پاکستان کے بندوبستی علاقے ہوں گے۔
اس کی پیش بندی کیسے ممکن ہے اگر حکومت جانتی ہے لیکن فی الحال بےبس دکھائی دے رہی ہے۔ بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ تک سے تو رابطہ کر رہی ہے لیکن اپنے خطے میں موجود اس ملزم کو عدالتی کٹہرے میں لانے سے انکار کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو شک ہے کہ بیت اللہ محسود محض ایک چھوٹا سا کردار ہے اس بڑے خطرناک گروہ کا جس نے ہمیشہ پاکستانی سیاستدانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ |
اسی بارے میں بینظیر: محسود کی جائیداد کی ضبطی10 May, 2008 | پاکستان آر اے بازار دھماکہ، بیت اللہ کے وارنٹ01 April, 2008 | پاکستان محسود قبیلے کی سب سے بڑی نقل مکانی07 February, 2008 | پاکستان سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی06 February, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دو دن سے خاموشی04 February, 2008 | پاکستان ’ ہم غریبوں کا بیڑا غرق ہو رہا ہے‘30 January, 2008 | پاکستان سکاؤٹس قلعوں پر طالبان کے حملے30 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||