بینظیر: محسود کی جائیداد کی ضبطی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث مبینہ مرکزی ملزم اور قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کی جائیداد کی ضبطی کے بارے میں پولیس نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔ پولیس افسر نے یہ رپورٹ سنیچر کو بےنظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کے دوران پیش کی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہونے والی اس مقدمے کی سماعت کے دوران اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچوں ملزمان عدالت میں موجود ہیں۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک افسر محمد حیات عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ملزم بیت اللہ محسود اور اکرام اللہ کی جائیداد کی ضبطی کے متعلق عدالتی احکامات وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کو پہنچا دیے ہیں۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود سمیت پانچ افراد کی جائیداد کی ضبطی کے احکامات جاری کیے تھے اور عدالت نے بیت اللہ محسود کو بےنظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دیکر ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر سے کہا کہ اس مقدمے میں ملوث افراد جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے انہیں جلد از جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس مقدمے کے سرکاری وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے مبینہ ماسٹر مائینڈ شدت پسند بیت اللہ محسود اگر گرفتار نہیں بھی ہوتے تو بھی اس مقدمے کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور جتنے افراد ابھی تک گرفتار ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب بیت اللہ محسود گرفتار ہوں گے تو اُس کے بعد ان کے خلاف اس مقدمے کے حوالے سے کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ راولپنڈی کی عدالت نے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کو دو سے زائد مقدموں میں اشتہاری قرار دیا ہے ان میں آر اے بازار چوک اور جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کے گھر کے قریب ہونے والے خودکش حملے بھی شامل ہیں ان حملوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
راولپنڈی پولیس نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بےنظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان حسنین گل اور محمد رفاقت پر عائد کی ہے اور تفتیش کے دوران انہی ملزمان کے بیانات کی روشنی میں قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کو اشتہاری قرار دیا گیا۔ بےنظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کے دوران اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے اعتزاز شاہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کا موکل کمسن ہے اور اس مقدمے میں بےگناہ ہے لہذا اُس کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی جائے جس پر عدالت نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے بارے میں احکامات جاری کیے جو اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے موقع پر ملزم اعتزاز شاہ کی عمر کا تعین کرکے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکتیس مئی تک ملتوی کردی۔ عدالت کے حکم پر ملزمان کی ملاقات ان کے رشتہ داروں سے کروائی گئی جو اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے۔ واضح رہے کہ ملزمان حسنین گل اور محمد رفاقت کے رشتہ داروں نے چند روز قبل اسلام آباد میں زرداری ہاؤس کے قریب ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے بچے بےنظیر بھٹو کیس میں ملوث نہیں ہیں۔ ان ملزمان کے رشتہ داروں نے پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے بھی ملنے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات میں لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خود کش حملے میں بےنظیر بھٹو سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں بی بی قتل، تحقیق اقوام متحدہ سے ہی09 May, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان ’یو این بینظیرقتل کی تحقیقات کرے‘14 April, 2008 | پاکستان ’میرا بیٹا بے قصور ہے‘22 February, 2008 | پاکستان ’نیو جرسی ٹرسٹ درخواست واپس‘08 February, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو قبر پر’ولیوں جیسا ہجوم‘06 February, 2008 | پاکستان بینظیر کی نئی کتاب میں نئے انکشاف04 February, 2008 | پاکستان بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||