BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یو این بینظیرقتل کی تحقیقات کرے‘

بےنظیر قتل کی تحقیقات
پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وہ ایوان سے قرار داد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ سے رابطہ کرے گی
قومی اسمبلی نے پیر کو پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحد سے کروانے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

اقوام متحدہ سے تحقیقات کے مطالبے پر مبنی یہ قرار داد وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے ایوان میں پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کا قتل پاکستانی عوام کا نقصان ہے۔

اس قرار داد میں جس کی مخالفت کسی نے نہیں کی، حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ستائیس دسمبر کے واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے اس عالمی ادارے سے رابطہ کرے تاکہ وہ ایک کمیشن کے ذریعے اس قتل کی تحقیقات کرے اور اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

اس موقع پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔

حکمران پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وہ ایوان سے قرار داد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ سے رابطہ کرے گی۔

وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی میں بھی بجلی کی کمی کا بحران موضوع بحث بنا رہا۔ ایوان کو بتایا گیا کہ نئی حکومت کو بجلی کی کمی کے بحران پر مکمل قابو پانے کے لیے تین برس کا وقت لگ سکتا ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے الزام لگایا کہ موجودہ بحران کی ایک وجہ سابق حکومتوں کے بارہ برسوں میں ایک میگا واٹ بجلی تک کے منصوبے کا بھی انتظام نہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طلب و رسد کا مسئلہ ہے جس میں ملک کو تین ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی درپیش ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ق) کے سرحد سے رکن امیر مقام نے وزیر کو ٹوکتے ہوئے یاد دلانے کی کوشش کہ غازی بروتھا کے منصوبے نے تو سابق حکومت کے دور میں ہی کام کرنا شروع کیا تھا لہذا وہ بےجا الزام تراشی سے گریز کریں۔

اس پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس منصوبے پر بھی کام کا آغاز بےنظیر بھٹو کے دور میں ہوا تھا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے طویل اور مختصر مدت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھ سے سات ماہ میں صارفین کو بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے، سال ڈیڑھ سال میں اس پر قدرے قابو پا لیا جائے گا اور تین برس میں مکمل صورتحال قابو میں آ جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے حب میں ایک نجی ٹی وی چینل سندھ ٹی وی کے صحافی خادم حسین شیخ کے قتل کی مذمت کی اور ورثا کو حکومت کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری اور مالی امداد کا یقین دلایا۔

وفاقی وزیر قانون انصاف فاروق ایچ نائیک نے ایوان میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے سال دو ہزار چھ بھی پیش کی۔

بنظیر بھٹوکتاب سے اقتباسات
’اوہ میرے خدا یہ نہیں ہو سکتا‘
 بینظیر بھٹو پوسٹرقتل کے 40 دن بعد
ابھی عبوری چالان تک پیش نہیں ہو سکا
بے نظیربے نظیر قتل کیس
پانچ ملزمان پر فرد جرم عائد
بینظیر کا وعدہ
قبر بھی بہت سے لوگوں کے وسیلہ روزگار
اسی بارے میں
بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟
07 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد