BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 March, 2008, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر قتل: پانچ پر فرد جرم عائد

بے نظیر قتل کیس کے ملزم
کم عمر ملزم اعتزاز شاہ نے فرد جرم کے خلاف عدالت کے دائرہ اختیار کے بارے میں ایک درخواست دائر کی ہے
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان پر منگل کے روز فردجرم عائد کردی۔ ملزمان حسنین گل، محمد رفاقت، اعتزاز شاہ، شیرزمان اور مفتی عبدالرشید کو سخت حفاظتی پہرے میں عدالت میں لایا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج حبیب الرحمن نے ان ملزمان کو اس مقدمے کی وہ دفعات پڑھ کر سنائیں جن کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے اور اس حوالے سے ان کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ان ملزمان کو فرد جرم کی کاپیاں تقسیم کی تھیں جبکہ اس خودکش حملے کے مبینہ ماسٹر مائینڈ قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود، اکرام اللہ، عبدالرحمن، عبداللہ اور فیض کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تھے۔

عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس مقدمے کی سماعت یکم اپریل تک ملتوی کر دی ہے اور اس مقدمے کی آئندہ سماعت جیل میں ہوگی۔

ادھر اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے کم عمر اعتزاز شاہ نے اس مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف عدالت کے دائرہ اختیار کے بارے میں ایک درخواست دائر کی ہے۔

صوبہ پنجاب کے قائمقام آئی جی اظہر حسن ندیم نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے بےنظیر بھٹو قتل کیس کے مبینہ ماسٹرمائینڈ بیت اللہ محسود کوگرفتار کرنے کے لیے حکمت عملی وضح کرلی ہے۔

نگراں وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کوگرفتار کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر وہ گرفتار نہ بھی ہوئے تواس کا اس مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی جبکہ مذکورہ قبائلی شدت پسند اور دیگر ملزمان جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے ان کو اشتہاری قرار دیکر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات میں لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور پولیس نے اس خودکش حملے کے الزام میں چار افراد کو سات فروری سنہ دوہزارآٹھ میں راولپنڈی کے علاقے دھمیال کیمپ کے قریب سے گرفتار کیا تھا۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈشنل آئی جی، سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید کے مطابق گرفتار ہونے والے دوافراد حسنین گل اور محمد رفاقت نے راولپنڈی میں ہونے والے متعدد خودکش حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ ملزمان نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ چار ستمبر کو آراے بازار کے علاقے میں فوجی اہلکاروں پر جو خودکش حملہ کیا گیااس میں ملوث خودکش حملہ آور کا نام عثمان تھاجبکہ مجاہد چوکی پر جوخودکش حملہ ہوا تھا اس میں خودکش حملہ آور شاہد تھا۔

محمد رفاقت کے والد صابر حسین کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا اور داماد حسنین گل پانچ جنوری سنہ دوہزار آٹھ سے لاپتہ تھے اور انہوں نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ پولیس چوکی میں درج کروائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جیل کے حکام انہیں اپنے بیٹے اور داماد سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہے ۔ صابر حسین کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اور داماد انتہائی اہم مقدمے میں ملوث ہیں لہذا ان سے ملاقات کے لیے ہوم سیکرٹری پنجاب سے اجازت لینا ہوگی۔

اسی بارے میں
بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟
07 February, 2008 | پاکستان
سی آئی اے کے الزام کی تردید
19 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد