BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 February, 2008, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر بھٹو قبر پر’ولیوں جیسا ہجوم‘

قافلے گڑھی خدابحش بھٹو پہنچنا شروع ہوگئے ہیں
پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی رسم چہلم جمعرات کی صبح ان کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں ادا کی جائے گی۔رسم کے مطابق قرآن خوانی اور اجتماعی دعا کے بعد لنگر تقسیم کیا جائیگا۔

پیپلز پارٹی کےمرکزی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو صاحبہ کے چہلم کےموقع پر ان کی جماعت کا جلسہ عام نہیں ہوگا۔تمام صوبوں اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں تقاریب منعقد کی جائیں گی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنان قافلوں کی صورت میں گڑھی خدا بخش پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ان میں وہ درجنوں کارکنان بھی شامل ہیں جو سندھ بھر سے پیدل قافلوں کی صورت میں اپنی سربراہ کی قبر پر حاضری دینے کےلیے دور دراز علاقوں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد پہنچے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چہلم سے قبل ہی بینظیر بھٹو صاحبہ کی قبر پر ولیوں جیسا ہجوم اور لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے۔

گڑھی خدا بخش بھٹو ویسے تو ایک چھوٹے سے قصبے اور بھٹو خاندان کے افراد کے قبرستان کا نام ہے مگر بینظیر بھٹو صاحبہ کی تدفین کے بعد قبرستان میں بازار بن گئے ہیں اور لوگ انہیں سیاسی رہنماء سے زیادہ ایک ولی یا بزرگ کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

گڑھی خدا بخش قبرستان میں ایک سو کے قریب کھوکھے نما سٹال لگ چکے ہیں۔ان سٹالوں پر سب سے زیادہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی تصاویر اور ان کی تقاریر والی سی ڈیز اور آڈیو کیسٹ فروخت ہوتی ہیں۔

گڑھی خدا بخش میں تصاویر فروخت کرنے والےحبیب رند کا کہنا تھا کہ محترمہ کی تدفین کے چند روز بعد سب سے پہلے انہوں نے تصاویر فروخت کرنا شروع کیں۔جب محترمہ کی تصویریں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ فروخت ہونے لگیں تو دوسرے لوگ بھی پہنچنے شروع ہوئے۔

حبیب کے مطابق وہ بینظیر صاحبہ کی ہزاروں تصویریں فروخت کر چکے ہیں مگر قمبر کے ایک بزرگ کے ساتھ لی گئی محترمہ بینظیر کی تصویر سب سے زیادہ فروخت ہوئی ہے۔اس تصویر میں قمبر کے بزرگ غلام حسین شاہ اپنی کرسی پر اور بینظیر صاحبہ ان کے سامنے فرش پر بیٹھی ہوئی ہیں۔

گڑھی خدابخش میں بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد پھولوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ایک نوجوان پھول فروش عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے تمام پھول شام سے پہلے ختم ہوجاتے ہیں اور پھولوں کی مانگ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اسے پورا نہیں کر پا رہے۔

گڑھی خدا بخش قبرستان میں بینظیر بھٹو صاحبہ کی تدفین سے قبل صرف ایک پھول فروش موجود رہتا تھا جبکہ ان کی تعداد میں چالیس دنوں کے اندر پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گڑھی خدا بحش بھٹو کے قبرستان میں بنائی گئی بازار میں تصاویر، سی ڈیز کے سوا چائے، مشروبات اور پھل وغیرہ مل جاتے ہیں جو دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے غنیمت ہیں۔

قمبر کے ایک بزرگ کے ساتھ لی گئی محترمہ بینظیر کی تصویر سب سے زیادہ فروخت ہوئی

مقامی دانشور اور ادیب اخلاق انصاری کا کہنا ہے کہ لوگوں میں گڑھی خدا بخش بھٹو کے لیے ایک ولیوں جیسا احترام بڑھ رہا ہے کیونکہ دونوں باپ بیٹی کو لوگ پاکستان کی تاریک راہوں میں ناحق مارے گئے وزیراعظم سمجھتے ہیں۔

بینظیر بھٹو صاحبہ کو اٹھائیس دسمبر کی دو پہر گڑھی خدابخش بھٹو کے قبرستان میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں دفن کیا گیا تھا۔گڑھی خدابخش بھٹو میں پاکستان کے دو منتخب وزیراعظم مدفون ہیں جونہ صرف رشتے میں باپ بیٹی ہیں مگر دونوں کی موت راولپنڈی میں غیرفطری اندازمیں ہوئی۔

بینظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے والد کے مزار کی شاندار طرز تعمیر کے نمونے سے شروع کروائی تھی۔تاج محل طرز کی اس مزار کے بارے میں انہیں شاید علم نہیں تھا کہ ایک دن انہیں بھی اسی مزار کا حصہ بننا پڑے گا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعے اور اتوار کے روز بینظیر کی مزار پر لوگوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ دنوں دن آئندہ بھی اسی طرح گڑھی خدا بخش بھٹو میں بینظیر کی قبر پر رش کے دن رہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد