بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک نے سارک ملکوں کی پولیس کے سربراہوں پر زور دیا ہے کہ اگر ان کے پاس پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات ہیں تو وہ پاکستانی حکومت کو اس کے بارے میں مطلع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے سلسلے میں ایک مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جسے بہت جلد اقوام متحدہ کو بھجوا دیا جائے گا۔ سارک ملکوں کے پولیس سربراہوں کے افتتاحی اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اس کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔ مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت اور اس خلاف ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے بارے میں متضاد رپورٹیں دی گئی ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ وہ ان تمام رپورٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار سارک کے ممالک ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ دہشت گردی کی وارداتوں اور سنگین نوعیت کے جرائم میں اضافے کی اصل وجہ اس خطے میں بھوک اور بےروز گاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سارک کے ملکوں میں معاشی استحکام لانا ہوگا۔
انہوں نے شدت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے دہشت گردی کی وارداتیں ختم کردیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اور کسی سیاسی جماعت یا گروہ کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں مشیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر جلسے جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی ہے تاہم تمام شہروں میں مظاہروں کے لیے ایک جگہ مختص کی جائے گی جہاں پر مختلف تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں احتجاجی مظاہرہ کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا تنظیم نے کوئی ریلی نکالنی ہو تو وہ اس سے پہلے انتظامیہ کو اس ریلی کا روٹ دیں گی تاکہ ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر خودکش حملے ہوئے ہیں جس میں سینکٹروں افراد لقمہ اجل ہوئے ہیں۔ اس سے قبل سارک ملکوں کی پولیس سربراہوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہا کہ سارک ملکوں میں جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس کے سربراہان ایک دوسرے سے قریبی رابطہ رکھیں اور جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں ایک دوسرے کو ٹھوس معلومات فراہم کریں۔ اس کانفرنس کا مقصد سارک ملکوں کی پولیس کے سربراہوں میں ورکنگ ریلیشنشپ کو مزید بہتر بنانا ہے۔ |
اسی بارے میں ’یو این بینظیرقتل کی تحقیقات کرے‘14 April, 2008 | پاکستان ’سر کا زخم، بیرونی مواد نہیں تھا‘12 January, 2008 | پاکستان ’جائےوقوعہ دھودیا، تفتیش کیسےہوگی‘28 December, 2007 | پاکستان سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ہلاک27 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||