BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد

بےنظیر بھٹو
بےنظیر بطٹو پر قاتلانہ حملہ ستائیس دسمبر 2007 کو ہوا تھا
وزیر اعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک نے سارک ملکوں کی پولیس کے سربراہوں پر زور دیا ہے کہ اگر ان کے پاس پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات ہیں تو وہ پاکستانی حکومت کو اس کے بارے میں مطلع کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے سلسلے میں ایک مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جسے بہت جلد اقوام متحدہ کو بھجوا دیا جائے گا۔

سارک ملکوں کے پولیس سربراہوں کے افتتاحی اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اس کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔

مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت اور اس خلاف ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے بارے میں متضاد رپورٹیں دی گئی ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ وہ ان تمام رپورٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار سارک کے ممالک ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ دہشت گردی کی وارداتوں اور سنگین نوعیت کے جرائم میں اضافے کی اصل وجہ اس خطے میں بھوک اور بےروز گاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سارک کے ملکوں میں معاشی استحکام لانا ہوگا۔

رحمان ملک
رحمان ملک اسلام آباد میں سارک ممالک کے پولیس کے سربراہوں کے اجلاس میں بات کر رہے تھے

انہوں نے شدت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے دہشت گردی کی وارداتیں ختم کردیں۔

رحمان ملک نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اور کسی سیاسی جماعت یا گروہ کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں مشیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر جلسے جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی ہے تاہم تمام شہروں میں مظاہروں کے لیے ایک جگہ مختص کی جائے گی جہاں پر مختلف تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں احتجاجی مظاہرہ کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا تنظیم نے کوئی ریلی نکالنی ہو تو وہ اس سے پہلے انتظامیہ کو اس ریلی کا روٹ دیں گی تاکہ ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر خودکش حملے ہوئے ہیں جس میں سینکٹروں افراد لقمہ اجل ہوئے ہیں۔

اس سے قبل سارک ملکوں کی پولیس سربراہوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہا کہ سارک ملکوں میں جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس کے سربراہان ایک دوسرے سے قریبی رابطہ رکھیں اور جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں ایک دوسرے کو ٹھوس معلومات فراہم کریں۔ اس کانفرنس کا مقصد سارک ملکوں کی پولیس کے سربراہوں میں ورکنگ ریلیشنشپ کو مزید بہتر بنانا ہے۔

بینظیر کی طبی رپورٹ
’بینظیر، سر کے زخم میں بیرونی مواد نہیں تھا‘
بینظیر بھٹوکون مرا ہے؟
بینظیر یا وفاق، عوام اور جمہوریت کی سیاست
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد