BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 May, 2008, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی قتل، تحقیق اقوام متحدہ سے

قتل کے فوراً بعد پیپلز پارٹی نے تفتیش اقوام متحدہ سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کی مقتول لیڈر بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے پر تمام تحفظات کو رد کرتے ہوئے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ حکومت بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کروائے گی اور انہیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔

یہ بات انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر دو روزہ بحث سمیٹتے ہوئے کہی۔

سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سید مشاہد حسین نے جمعرات کو بحث میں حصہ لیتے ہوئے بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے پر سخت تحفظات ظاہر کیے تھے اور کہا تھا کہ اس سے ملک کے لیے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔

اس سے پہلے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان اور بعض قانونی ماہرین نے بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے نہ کروائی جائے کیونکہ ان کے بقول اس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

قتل کی تفتیش کے لیے برطانوی ماہرین کی مدد بھی لی گئی تھی۔

حکومت نے بعد میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان کو فارغ کردیا لیکن اس کی وجہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ کی مخالفت کرنا نہیں بتائی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ امریکی جنرل جے ہوڈ کو پاکستان میں تعینات کرنے پر حکومت کو تحفظات ہیں اور امریکہ کو اس تشویش سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا تو حکومت کے پاس بہت آپشن ہیں اور جنرل ہوڈ اور ان جیسی سوچ کے حامل افراد کو ملک میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

جنرل ہوڈ کو امریکی حکومت نے چند ہفتے قبل اسلام آباد میں واقع اپنے سفارتخانے میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے خلاف سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں سے سخت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا۔ جنرل ہوڈ پر الزام ہے کہ گوانتانامو بے میں تعیناتی کے دوران انہوں نے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک برتا اور قرآن مجید کی توہین کی۔ لیکن جنرل ہوڈ ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بعض سینیٹرز کی جانب سے امریکہ پر تنقید کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ پر تنقید کریں یہ آپ کا حق ہے لیکن امریکہ کی اہمیت اور ان سے پاکستان کو ملنے والے فوائد سے غافل بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

پاکستان کے جوہری پروگرام کے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور کوئی اس کے خلاف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

 امریکی جنرل جے ہوڈ کو پاکستان میں تعینات کرنے پر حکومت کو تحفظات ہیں اور امریکہ کو اس تشویش سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا تو حکومت کے پاس بہت آپشن ہیں اور جنرل ہوڈ اور ان جیسی سوچ کے حامل افراد کو ملک میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا
وزیر خارجہ

’پاکستان نے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی تحفظات دور کیے ہیں اور پاکستان میں اب مضبوط کمانڈ اور کنٹرول اتھارٹی موجود ہے۔‘

ڈاکٹر قدیر خان سے عالمی جوہری ادارے کو تحقیقات کی اجازت کے بارے میں سینیٹر ایس ایم ظفر اور دیگر کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ڈاکٹر قدیر ۔۔ باب بند ہوچکا۔۔ پاکستان نے جہاں تک جانا تھا وہاں تک گیا اور جو معلومات ملی اور جو اقدامات اٹھانے تھے وہ اٹھائے۔۔ دنیا مطمئین ہے۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید جوہری بجلی گھر قائم کرسکتا ہے اور ان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں دنیا تفریق نہ کرے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی حکومت پارلیمان کو بالادست سمجھتی ہے اور خارجہ پالسیی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لے گی۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیا۔

وزیر خارجہ نے مشاہد حسین کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں نہ صرف خارجہ پالسیی بنانے میں وزارت خارجہ کا کردار محدود کیا گیا بلکہ عدلیہ، پارلیمان اور دیگر اداروں کا بھی برا حال کیا گیا کیونکہ اختیارات فرد واحد کے پاس رہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایسا نہیں ہونے دے گی اور خارجہ پالسی بنانے میں وزارت خارجہ کا کردار بحال کرے گی۔

’ہم نوکری کے چکر میں نہیں، جہاں اصرار یا مداخلت کرنی پڑی وہاں کریں گے۔ ہم پاکستان کے مفادات کا سودا نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں یہیں رہنا ہے۔ یہاں سے نکلے تو ملتان جائیں گے۔ کنیڈا کا پاسپورٹ ہے اور نہ ہی لندن میں کوئی فلیٹ۔‘

قبل ازیں سینیٹر مولانا گل نصیب اور دیگر نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ سیاسی قوتوں کو اقتدار تو ملا لیکن اختیار نہیں ملا۔ بحث میں حصہ لینے والے اکثر سینیٹرز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آزادنہ خارجہ پالیسی بنائے، بیرونی دباؤ قبول نہ کرے اور ملکی مفادات کا تحفظ کرے۔

بینظیر بھٹو اصل سوال یہ ہے
قاتل کون ہیں اور اس قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟
تحقیقات کون کرے
بینظیر کے قتل کی تحقیقات کے لیے دباؤ
بینظیر بھٹوبینظیرکی ہلاکت
اقوام متحدہ تفتیش کرے یا نہیں
بینظیر کا وعدہ
قبر بھی بہت سے لوگوں کے وسیلہ روزگار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد