BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 June, 2008, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جواب کی صلاحیت رکھتے ہیں‘

بیت اللہ محسود
’بیت اللہ محسود صرف ایک شخص کا نام نہیں بلکہ وہ ایک تحریک کے سربراہ اور کمانڈر ہیں،
تحریک طالبان پاکستان نے افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کو جب بھی ان کی ضرورت پڑے گی تو وہ ان کی مدد کےلیے ہر وقت تیار ہونگے۔

تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں کی وجہ سے حامد کرزئی اور ان کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور وہ اپنے ہوش و حواص کھو بیٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حامد کرزئی ان پر حملہ کر سکتے ہیں تو پھر پاکستانی طالبان بھی اس کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ پہلے بھی افغانستان میں افغان اور اتحادی افواج پر حملے کرتے رہے ہیں۔

مولوی عمر نے افغان صدر کی اس بات پر سخت غصے کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بیت اللہ محسود کو تلاش کرکے ان کو نشانہ بنائیں گے۔

طالبان ترجمان کے بقول ’بیت اللہ محسود صرف ایک شخص کا نام نہیں بلکہ وہ ایک تحریک کے سربراہ اور کمانڈر ہیں، اگر کوئی ان کے قریب بھی آئے گا تو اسے عبرت ناک سزا دی جائیگی‘۔

انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی کا بیان قبائل کی خودمختاری اور آزادی کے خلاف ہے کیونکہ ان کے بقول افغان حکومت نے اپنی سرزمین کو مغربی ممالک کا غلام بنایا ہوا ہے اور اب وہ پاکستانی قبائل کو بھی اس طرح کا غلام دیکھنا چاہتی ہے۔

افغان طالبان کی بھر پور مدد کرینگے
 ’افغانستان میں طالبان کی مزاحمت بھرپور طریقے سے جاری ہے لیکن پھر بھی اگر افغان طالبان کو ہماری امداد یا کمک کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم پھر قرآن پر عمل کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کی بھر پور طریقے سے مدد کرینگے
مولوی عمر

مولوی عمر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’افغانستان میں طالبان کی مزاحمت بھرپور طریقے سے جاری ہے لیکن پھر بھی اگر افغان طالبان کو ہماری امداد یا کمک کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم پھر قرآن پر عمل کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کی بھر پور طریقے سے مدد کرینگے‘۔

تاہم ترجمان نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے بارے میں واضح جواب نہیں دیاجس میں کہا گیا ہے امریکہ کے دباؤ پر پاکستان اور مقامی طالبان کے مابین ہونے والے ممکنہ امن معاہدے میں اس شرط کو شامل کیا گیا ہے کہ معاہدہ ہو جانے کے بعد پاکستانی طالبان افغانستان نہیں جا سکیں گے۔

مولوی عمر نے کہا کہ حکومت سے امن معاہدے کی جو شرائط طے پائی ہیں ان میں افغانستان جانے والی بات شامل نہیں ہے تاہم اگر اس طرح کی بات آتی بھی ہے تو پھر اس پر تحریک کی مرکزی شوریٰ اور قیادت فیصلہ کریگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد