BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 June, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنڈولہ کے نو مغوی عمائدین واپس

مقامی طالبان، فائل فوٹو
مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ ’ان کی تنظیم کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے‘
وفاق کے زیرانتظامیہ ٹانک نیم قبائلی علاقہ جنڈولہ سے اغواء کیے گئے بیٹنی قبائل کے نو عمائدین کو مقامی طالبان نے علماء اور عمائدین کے ایک مشترکہ جرگے کے حوالے کیا ہے۔ قبائلی عمائدین میں پانچ اہم لوگ بھی شامل ہیں۔

ٹانک نیم قبائلی علاقے میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو جنڈولہ سے کوئی بیس کومیٹر دور جنوبی وزیرستان کے علاقے سپینکئی راغزئی میں بیٹنی قبائل کے عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگے نے مقامی طالبان سے کامیاب مذاکرات کیے اور بیٹنی قبائل سے تعلق رکھنے والے نو قبائلی عمائدین کو رہا کرا لیا۔

انتظامیہ کے مطابق رہا ہونے والے قبائلی عمائدین میں پانچ اہم لوگ بھی شامل ہیں جن سعید خان، گل رحمن، حیدرخان اور نصیب خان کے نام بتائے گئے ہیں۔

جرگے میں شامل مولانا نور محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے نے پہلے بیت اللہ گروپ کے ایک کمانڈر خواجہ سے رابط کیا اس کے بعد جرگے کے اراکین تین گاڑیوں میں جنڈولہ سے سپینکئی راغزئی پہنچ گئے جہاں ان کی مقامی طالبان کے ایک گروپ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے جرگہ کا بہت احترام کیا۔

مولانا نور محمد کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران مقامی طالبان نے بتایا کہ امن کمیٹی کے ان چوبیس اراکین کو اس لیے ہلاک کیاگیا کہ وہ ان کے مشن میں رکاوٹ تھے۔

وہ مشکلات پیدا کر رہے تھے
 نعمت خیل قبائل کے ساتھ مقامی طالبان کی کوئی رنجش ہے۔ جن لوگوں کو قتل کیاگیا ہے وہ حکومت کی مدد سے مقامی طالبان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے
مقامی طالبان

ان کے مطابق مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی نعمت خیل قبائل کے ساتھ مقامی طالبان کی کوئی رنجش ہے۔ جن لوگوں کو قتل کیاگیا ہے وہ حکومت کی مدد سے مقامی طالبان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ بیٹنی قبائل کے نو عمائدین کو بھی چار دن پہلے امن کمیٹی کے اراکین کے ساتھ جنڈولہ کے علاقے سے اغواء کیا گیا تھا۔ امن کمیٹی کے ہلاک کیے جانے والے چوبیس اراکین کی لاشیں جنڈولہ کے قریب ایک پہاڑی نالے سے ملی تھیں۔

تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا تھا کہ ’وہ جرائم پیشہ لوگ تھے اس لیے انہیں ہلاک کیاگیا‘ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے علاقے کی امن کمیٹی کے لوگ تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد