ٹانک میں تلاشی کی بڑی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ٹانک میں سکیورٹی فورسز نے شہر کے مضافاتی گاؤں میں تلاشی کی کارروائی شروع کردی ہے۔ اس کارروائی میں مشکوک گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور چار مشتبہ افرد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں مختلف ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی ہے۔ اور منزئی کے مقام پر جنوبی وزیرستان جانے والی گاڑیوں کو آٹے سے خالی کرا لیا گیا ہے اور آٹے کو قریبی رہائشیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ٹانک پولیس کے سربراہ ممتاز زرین نے بی بی سی کو جمعہ کو شہر کے مضافاتی گاؤں گلشن آباد عمرہ اڈہ اور شہر کے بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے۔ اس کارروائی میں ایک سو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ جن میں فوج؛ ایف سی اور پولیس کے جوان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایک ہفتہ پہلے ٹانک میں تلاشی کی ایک کارروائی میں پینسٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جن میں سے تیس کو نیک چلنی کی ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ جبکہ دوسروں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں علاقہ محسود پر انا، جنڈولہ اور منزئی سکاؤٹس قلعوں سے گولہ باری کی ہے۔ جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے البتہ مقامی لوگوں میں حوف و ہراس پھیل گیا ہے اور بعض لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کی ہے۔ علاقہ تیارزہ سے نورعلی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں اشیائے خوردنوش ختم ہوگئی ہیں۔ لوگ مجبور ہوکر علاقے سے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان کا مسئلہ غریب لوگوں کی بس کی بات نہیں ہے لیکن حکومت نے غریب لوگوں کے لیے راستے بند کر د یئے ہیں۔ ٹانک کے قریب منزئی سے ایک ڈرائیور مقارب نے بی بی سی کو بتایا کہ منزئی کے مقام پر فوج نے وانا جانے والے ایک درجن سے زیادہ ٹرکوں کو آٹے سے خالی کرا کے ڈرائیوروں کو جیل میں بند کردیا۔ | اسی بارے میں کامرہ راکٹ حملہ، میس کو نقصان17 January, 2008 | پاکستان طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان بد امنی:شدت پسندوں کا بڑا ہتھیار17 January, 2008 | پاکستان نواں فرقہ وارانہ خود کش حملہ17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||