رضا ہمدانی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | یہ دھماکہ مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ کے قریب ہوا |
پشاور کے علاقے جہانگیر پورہ میں واقع مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ کے قریب جمعرات کو ہونے والا خودکش حملہ اس سال کا دوسرا خودکش اور پہلا فرقہ وارانہ حملہ ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پشاور کی امام بارگاہ کے قریب خودکش حملے کے بعد پاکستان میں خودکش حملوں کی کُل تعداد اسّی ہو گئی ہے جن میں نو سو پینسٹھ افراد ہلاک اور دو ہزار ستّر کے قریب زخمی ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ انیس نومبر انیس سو پچانوے میں اسلام آباد میں مصر کے سفارتخانے میں ہوا تھا۔ مصری حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں دوسرا خودکش حملہ آٹھ مئی دو ہزار دو کو کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے باہر ہوا جس میں فرانسیسی انجینئرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں گیارہ فرانسیسیوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں یہ پہلا خودکش حملہ تھا جس میں مبینہ طور پر پاکستانی خودکش حملہ آور ملوث تھا۔ جمعرات کے حملے کے ساتھ پاکستان میں کُل نو فرقہ وارانہ خودکش حملے ہوئے ہیں اور اس نوعیت کا آخری حملہ آٹھ نومبر دو ہزار چھ کو ہوا تھا جس میں علامہ حسن ترابی مارے گئے تھے۔ سنہ دو ہزار دو سے اب تک کراچی میں نو خودکش حملے ہوئے جن میں دو سو تیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے اڑتالیس افراد تین فرقہ وارانہ خود کش حملوں میں ہلاک ہوئے۔ پنجاب میں گیارہ خودکش حملے ہوئے جن میں نوے افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے چھتیس افراد تین حملوں میں فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے۔ بلوچستان میں صرف دو خودکش حملے ہوئے جس میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے، تاہم اب تک بلوچستان میں کوئی فرقہ وارانہ خوکش حملہ نہیں ہوا ہے۔ صوبہ سرحد میں صرف ایک فرقہ وارانہ خودکش حملہ ہوا تھا جن میں انتالیس افراد مارے گئے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک حملہ فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا جس میں پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ خود کش حملہ بری امام کے مزار پر مجلس کے دوران ہوا تھا۔
|