کوہاٹ میں قبائلی تصادم، فوج طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں مشتی اور کچئی قبائل کے مابین ایک بار پھر شدید لڑائی شروع ہوگئی ہے جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے لڑائی روکنے کےلیے فوج طلب کرلی ہے۔ کوہاٹ سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تین دن قبل کچئی کے علاقے میں مقامی اور اورکزئی ایجنسی کے مشتی قبائل کے درمیان ایک جھڑپ میں سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مشتی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جھڑپ میں پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرم صورت علی عرف صورتی بھی مارا گیا تھا۔ یہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب ہنگو میں جشن نوروز کے موقع پر فرقہ وارانہ فسادات میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں مقامی مشران کی کوششوں سے قبائل کے مابین عارضی فائر بندی کرائی گئی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق پیر کی شام مشتی قبائل نے کچئی قبائل پر دو اطراف سے حملہ کیا جس سے علاقے میں ایک بار پھر شدید جنگ چھڑگئی ہے۔ یونین کونسل آسترزئی کے ناظم مہتاب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ فریقین نے ساری رات بھاری اور خودکار ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا ہے جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات مل رہی ہے۔ ان کے مطابق فریقین پہاڑوں پر مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے مورچوں کو مارٹر توپ، راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے لڑائی روکنے کےلئے فوج طلب کرلی ہے تاہم فوجی دستے ابھی علاقے میں نہیں پہنچے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ کچئی کے ایک رہائشی نے بتایا کہ علاقے سے مقامی لوگوں نے کل سے خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں کچھ گھروں اور مورچوں کو بھی نذرآتش کیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں لڑائی جاری ہے۔ واضح رہے کہ کچئی ضلع کوہاٹ کا بندوبستی پہاڑی علاقہ ہے جو اورکزئی ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے۔ ادھر ضلع ہنگو میں بھی فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد منگل کو چوتھے روز بھی بغیر وقفہ کے کرفیو برقرار ہے جبکہ مقامی انتظامیہ نے کچئی کے مقام پر قبائلی تصادم کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کردی ہے۔ چار دن قبل ہنگو شہر میں بھی جھڑپوں کے مقامی انتظامیہ نے علاقے کو فوج کے حوالے کردیا تھا۔ | اسی بارے میں طالبان کے خلاف قبائلی لشکر29 January, 2008 | پاکستان انتخابی امیدوار پر ایک اور حملہ26 February, 2008 | پاکستان قبائلی علاقے: عام شہری کی ہلاکتیں14 March, 2008 | پاکستان جرگے پر طالبان حملہ، پانچ ہلاک15 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||