’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے اعلی اہلکار کا کہنا ہے کہ القاعدہ سمیت دیگر غیر ملکی شدت پسند پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہلے سے زيادہ سرگرم ہیں۔ اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار مائیک مولین نے یہ بھی کہا ہے پاکستان نے شدت پسندوں کو افغانستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔ مائیک مولین امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف ہیں۔ اس برس وہ دہشت گردی کے خلاف مذاکرات کے لیے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق مائیک مولین کا کہنا ہے’یہ بات تو صاف ہے کہ فاٹا میں پہلے کے مقابلے کہيں زیادہ بیرونی شدت پسند موجود ہیں۔‘ انہوں نے مزيد کہا’ سرحد پر ہی دقتیں ہیں یہ واضح ہے۔‘ مائیک مولین کے مطابق پاکستان کی نئی حکومت شدت پسندی جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحد پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہاں پوری آزادی ہے۔ گزشتہ مہینوں میں افغانستان کے مشرقی علاقوں ميں امریکی افواج پر ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں بھی امریکی فوج کے اعلی اہلکاروں نے پاکستان حکومت کی جانب سے مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ بزدلانہ تھا: پاک فوج11 June, 2008 | پاکستان امریکی حملے پر سرحد کا ردِ عمل12 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک۔ حملہ بزدلانہ ہے، جارحیت ہے: پاکستان11 June, 2008 | پاکستان امریکی وزیر دفاع، پاکستان پر تنقید27 June, 2008 | پاکستان سوات: معاہدے پر امریکی تحفظات22 May, 2008 | پاکستان فائرنگ: 4 پاکستانی فوجی ہلاک19 June, 2008 | پاکستان ’پاکستانی پوسٹ پر انڈیا کی فائرنگ‘ 10 July, 2008 | پاکستان فوجی کارروائی سے تبدیلی نہیں 03 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||