امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک۔ حملہ بزدلانہ ہے، جارحیت ہے: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب ’امریکی فوج‘ کے ایک راکٹ حملے میں گیارہ پاکستانی فوجیوں سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے پاکستانی فوج کا ایک افسر بھی شامل ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے افغانستان میں موجود کثیر الاقومی فوج کی طرف سے اس حملے کی شدت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری تعاون کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں حملے کی تصدیق کی ہے۔امریکی فوجی ترجمان نے مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔
پاکستان فوج کے ترجمان نےاس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستانی فوج کا ایک افسر بھی ہلاک ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں موجود بی بی سی کی نمائندہ باربرا پلیٹ کے مطابق بظاہر یہ ہلاکتیں نیٹو فوج کی طرف سے ہونے والے ایک راکٹ حملے کے باعث ہوئیں۔ باربرا پیلٹ نے مزید بتایا کہ سرحدی علاقے سے پاکستانی فوجیوں کی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور کے فوجی ہوائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔ سرحد پر نیٹو افواج اور شدت پسندوں میں شدید جھڑپ کے بعد نیٹو افواج نے راکٹ فائر کئے جن میں سے ایک پاکستانی سرحد کے اندر قائم پاکستان کے نیم فوج دستوں فرنٹیر کانسٹیبلری کی ایک فوجی چوکی پرگرا۔ ابتدائی طور پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کہہ رہے تھے کہ یہ کارروائی امریکی فوج کی طرف سے کی گئی اور اس میں پاکستانی فوج کا ایک میجر بھی شامل ہیں۔ افغانستان میں کثیرالاقومی فوج ایساف کے ترجمان بریگیڈئر جنرل کارلوس برانکو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ کو بتایا کہ ان کی افواج پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی تھی جس کے جواب میں انہوں نے بھی فائرنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ اس جھڑپ میں ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ انہیں دوسری طرف ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ طالبان تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ منگل کی شام افغان اور نیٹو فورسز نے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ساٹھ سے زائد طالبان نے ان پر حملہ کر دیا۔ مولوی عمر نے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد نیٹو فورسز نے فضائی مدد طلب کی جس نے پاکستانی علاقے میں موجود طالبان جنگجوؤں پر بمباری کی۔ اس بمباری کی زد میں ایک پاکستانی چیک پوسٹ بھی آگئی اور ایک میجر سمیت پاکستانی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ بمباری میں آٹھ طالبان جنگجو بھی ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔ | اسی بارے میں ’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘06 June, 2008 | پاکستان سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان ’اب بھی فضل اللہ کا ساتھ دیں گے‘07 June, 2008 | پاکستان طالبان: پاک-افغان معلومات کا تبادلہ08 June, 2008 | پاکستان ٹانک:پولیس چوکی پرطالبان کا حملہ08 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||