BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 June, 2008, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان: پاک-افغان معلومات کا تبادلہ

طالبان سے معاہدوں پر افغانستان کو تشویش ہے
داخلی امور کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ملکر کام کریں گے اور اس حوالے سے وہ روزانہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے افغانستان کا نائب وزیر اور پاکستان کا ایک ڈپٹی سیکرٹری لیول کا ایک افسر یہ امور انجام دے گا۔

افغانستان کے ایک روزہ دورے سے واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بائیو میٹرکس سسٹم پر دوبارہ کام شروع کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں میں آنے جانے والے افراد کی آنکھیں سکین کی جائیں گیں۔

انہوں نے افعان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات میں یہ کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے وہاں کے عمائدین سے مذاکرات کیے ہیں جن کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ مشیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے افعان صدر سے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں بھی قبائلی عمائدین کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد مل سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے دہشت گردی کے خوف سے دوسرے علاقوں میں ہجرت کر جانے والے پچیس ہزار سے زائد افراد دوبارہ اپنے علاقوں میں واپس آرہے ہیں۔
مشیر داخلہ نے کہا کہ حکومت سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اُسامہ بن لادن کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اُن کی موجودگی کے بارے میں لوگ اندازے لگاتے رہتے ہیں تاہم آج تک کوئی بھی اُن کے قریب نہیں پہنچ سکا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کام ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے رپورٹیں دیتی رہیں۔

واضح رہے کہ مشیر داخلہ رحمان ملک ایک روزہ خصوصی دورے پر افغانستان گئے تھے جہاں انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ سرحدی امور کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور باہمی امور پر بھی بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان گرینڈ جرگہ کے اجلاس کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وکلاء کی طرف سے معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس لانگ مارچ میں شریک ہوگی تاہم اُن کا کہنا تھا کہ شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے فول پروف حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد