القاعدہ پسپائی پر ہے : سی آئی اے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ مائیکل ہیڈن کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ نے یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن اسامہ بن لادن اسی علاقے میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’القاعدہ کے اہم کارکنوں کی ہلاکت اور گرفتاریاں جاری ہیں اور اسی وجہ سے یہ تنظیم اپنے سب سے زیادہ محفوظ علاقے یعنی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں بھی مشکل میں ہے۔‘ ہیڈن نے کہا کہ القاعدہ کو عراق اور سعودی عرب میں شکست دی جا چکی ہے اور دیگر ممالک میں یہ تنظیم پسپائی پر ہے۔ ’ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کافی کامیاب ہو رہے ہیں۔ عراق اور سعودی عرب میں شکست کے بعد عالمی سطح پر القاعدہ پسپائی پر ہے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظہوری کی گرفتاری یا ہلاکت اہم ترین ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ دو سال قبل سی آئی اے نے متنبہ کیا تھا کہ شدت پسند اسلامی گروہ عراق کو لے کر کامیابی سے پروپیگینڈہ کر رہے ہیں۔ تاہم اب ہیڈن کا کہنا ہے کہ القاعدہ مسلم دنیا میں حمایت کھو رہی ہے۔ | اسی بارے میں اسامہ کے ساتھی کی گرفتاری کا انکشاف15 March, 2008 | آس پاس شام، شمالی کوریا کاایٹمی تعاون 24 April, 2008 | آس پاس متنازعہ تشدد: سی آئی اے کا اعتراف05 February, 2008 | آس پاس ٹیپ ضائع کرنے پر پیشی12 December, 2007 | آس پاس تفتیشی ٹیپ ضائع کرنے کا اعتراف07 December, 2007 | آس پاس امریکہ اسلام قبول کرلے: اسامہ07 September, 2007 | آس پاس ہیڈن کے سامنے مشکلات کا پہاڑ09 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||