ہیڈن کے سامنے مشکلات کا پہاڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے فضائیہ کے ایک سابق جنرل مائیکل ہیڈن کو سی آئی اے کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے۔ اس عہدے پر نئی نامزدگی کی ضرورت اس وقت پڑی جب گزشتہ ہفتے سی آئی اے کے ڈائریکٹر پیٹرگوس نے غیر متوقع طور پر استعفٰی دے دیا۔ وہ اس عہدے پر دو سال سے بھی کم عرصے کے لیئے فائز رہے۔ صدر بش کے خیال میں مائیکل ہیڈن سی آئی اے کے مستعفی ہونے والے سربراہ پورٹر گوس کی جگہ لینے کے لیئے موزوں ترین شخص ہیں۔ بش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ’انٹیلی جنس کے شعبہ میں مائیک کو 20 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں انہوں نے چھ برس کام کیا ہے اور اس طرح انہیں اپنے نئے عہدے کے لیئے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی چلانے کا کافی تجربہ ہے‘۔ بلاشبہ اس شعبے میں ہیڈن کا تجربہ وسیع ہے۔ بطور فضائیہ کا افسر، بلغاریہ میں بطور ملٹری اٹیچی اور خفیہ ترین نیشنل سکیوٹی ایجنسی کے سربراہ کے طور پر۔ حال ہی میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر میں وہ بطور نائب سربراہ تعینات رہے ہیں۔ ان کا تجربہ جتنا بھی وسیع صحیح مگر پھر بھی آپ ہیڈن کی شخصیت کے بارے میں بہت کم جان سکیں گے۔ سی آئی اے سربراہ کی نامزدگی قبول کرتے وقت بھی انہوں نے مختصراً خطاب کیا۔ تاہم مائیکل ہیڈن ایک مختلف طرح کی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور انہوں نے بش انتظامیہ کو اپنے ان طور طریقوں سے متاثر کیا ہے جن کے تحت انہوں نے جاسوسوں، فوج اور سیاستدانوں کے درمیان پایا جانے والا خلاء کچھ حد تک پر کیا ہے۔ لیکن جب بات ہو سینیٹ کی جانب سے کیئے جانے والے سوالات کی، جن کے جواب انہیں بطور سی آئی اے سربراہ کی تعیناتی کے وقت دینے ہی ہوں گے، تو صورتحال کچھ مبہم شکل اختیار کر جاتی ہے۔ جب ہیڈن نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ تھے تو انہوں نے ایک متنازعہ آپریشن پر کام کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت خفیہ کورٹ سے اجازت کے بغیر امریکیوں کی بیرون ملک کی جانے والی فون کالز سنی گئی تھیں۔ اس منصوبے کے قانوناً جواز کے بارے میں ہیڈن کو عوام کی جانب سے کڑے سوالات کا سامنا رہا۔ اگر سینیٹر ہیڈن سے اسی معاملات پر سوالات کریں تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ معاملہ حزب اختلاف کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے حق میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔ شاید ہیڈن کے لیئے اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریپبلکنز نے ان کی نامزذگی پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس لیئے نہیں کہ وہ متنازعہ پروگرام سے منسلک رہے ہیں بلکہ اس لیئے کہ وہ فوج کے افسر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سویلین ایجنسی فوجی کے ہاتھوں میں نہیں جانی چاہیئے۔ اگر جنرل ہیڈن کو بالآخر سی آئی اے سربراہ منتخب کرلیا گیا تو یہ کئی طرح کے مسائل کا آغاز ہوگا۔ واشنگٹن میں قیاس آرائیاں ہیں کہ سی آئی اے اس وقت اپنے کمزور دور سے گزر رہی ہے۔ کئی معاملات متنازعہ ہیں مثلاً گیارہ ستمبر کے حملے روکنے میں ناکامی، عراق میں ناقابل بھروسہ خفیہ معلومات کا حصول وغیرہ۔ جس کے تحت اس ادارے نے کئی حلقوں کی نظر میں اپنا اعتبار کافی حد تک کھو دیا ہے۔ | اسی بارے میں یورپ میں جیلوں پر امریکہ سے تحقیق07 May, 2006 | آس پاس سی آئی اے کے سربراہ مستعفی05 May, 2006 | آس پاس امریکہ:خفیہ اداروں کے اہلکار سیخ پا 22 April, 2006 | آس پاس ’سی آئی اے کے جہاز کیوں اُترے‘ 05 April, 2006 | آس پاس سی آئی اے بے نقاب13 March, 2006 | آس پاس ’خفیہ جیلوں کا ثبوت نہیں ملا ہے‘ 24 January, 2006 | آس پاس ’سی آئی اے جیلیں موجود ہیں‘14 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||