سی آئی اے کے سربراہ مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اعلان کیا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ پورٹر گوس اپنے عہدے سے ہٹ رہے ہیں۔ پورٹر گوس کو تقریباۙ دو سال پہلے سی آئی اے کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ پورٹر گوس کے فرائض میں سی آئی اے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنی تھیں۔ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں اچانک بلائی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے پورٹر گوس کے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ پورٹر گوس کو ایک مشکل کام سونپا گیا تھا جس کو انہوں نے اچھے طریقے سے نبھایا۔ امریکی صدر نے سی آئی اے کے سربراہ کو اچانک تبدیل کرنے کے فیصلے پر مزید کوئی بات نہیں کی۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ سی آئی اے میں پورٹر گوس کی متعارف کی گئی اصلاحات کو جاری رکھا جائے گا۔ جارج بش نے کہا کہ امریکہ نے ہر حال میں دہشت گردی کی جنگ میں فتح حاصل کرنی ہے اور اس فتح میں سی آئی اے کا کلیدی رول ہوگا۔ پورٹر گوس نے جارج ٹینٹ کی جگہ سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنھبالا تھا۔ جارج ٹینٹ پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ ان دور میں سی آئی اے اپنے کردار احسن طریقے سے نبھانے میں کامیاب نہیں رہی اور گیارہ ستمبر جیسے واقعات رو پذیر ہوئے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قیاس آرائیوں کے مطابق استعفے کی وجہ یہ ہے کہ سراغ رسانی کے امور کی نگرانی کے لیے جون میں نیگروپونٹے کے تقرر کے بعد وائٹ ہاؤس سے پورٹر گوس کا براہ راست تعلق ختم ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ سی آئی اے میں اس وجہ سے بد دلی پھیل رہی تھی کہ پورٹر گوس نے اپنے مشیروں کی ایک الگ ٹیم بنا لی تھی۔ پورٹر گوس کے ریپلیکن پارٹی کے ممبر ہونے کی وجہ سے ان کی تعیناتی پر ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ ارکان نے اعتراض کیا تھا۔ پورٹر گوس نے اس موقع پر کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سی آئی اے اچھے طریقے سے اپنے فرائض نبھا رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’بش سے دوستی، CIA کی نوکری‘14 September, 2004 | آس پاس گوس سی آئی اے کے نئے سربراہ23 September, 2004 | آس پاس صدر بش کی دوستی کا امتحان20 July, 2005 | آس پاس سی آئی اے سربراہ: مزید اختیارات27 August, 2004 | آس پاس سی آئی اے: دو اور استعفے27 November, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||