متنازعہ تشدد: سی آئی اے کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ادارے سی آئی اے نے پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے ’واٹربورڈنگ‘ کا متنازعہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کو پانی کے ذریعے ’تشدد‘ کا نشانہ بنایا۔ واٹربورڈنگ وہ اندازِ تفتیش ہے جس میں پانی کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ زیرِ حراست ملزم ڈوبنے کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کانگریس کو بتایا کہ یہ طریقۂ صرف تین افراد پر استعمال کیا گیا اور وہ بھی پانچ سال پہلے۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد کے اس متنازعہ طریقے کو القاعدہ کے اہم زیرِ حراست ملزموں پر استعمال کیا گیا جن میں سے ایک خالد شیخ محمد بھی ہیں۔ ہیڈن نے یہ بات اس وقت کہی جب نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر مائیک میکونل نے امریکہ کو درپیش خطرات پر کانگریس کے سامنے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نہ یہ طریقہ اس وقت کے مخصوص حالات کے تحت استمال کیا اور صرف تین افراد پر استعمال کیا‘۔ بعض ناقد اس طریقے کو تشدد کا نام دیتے ہیں اور کانگریس اس مسئلے پر بحث میں مصرف ہے کہ سی آئی اے اس طرح تفتیش نہ کرے۔ تاہم صدر جارج بش نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی بِل کو ویٹو کر دیں گے۔ ہیڈن کے مطابق خالد شیخ کے علاوہ ابو زبیدہ اور عبدالرحیم النصیری کے خلاف بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا۔ |
اسی بارے میں القاعدہ کا سرکردہ رکن گرفتار29 July, 2004 | پاکستان خالد شیخ محمد کون ہیں؟02.03.2003 | صفحۂ اول گیارہ ستمبر: خالد شیخ نے کیا بتایا؟22 September, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||