BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2003, 16:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ ستمبر: خالد شیخ نے کیا بتایا؟
خالد شیخ محمد
خالد شیخ محمد کو مارچ میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا

خبر رساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے گرفتار کیے گئے القاعدہ کے مشتبہ رکن خالد شیخ محمد نے تفتیش کے دوران گیارہ ستمبر سے متعلق مختلف منصوبوں کا انکشاف کیا ہے۔

اے پی کا کہنا ہے کہ اس نے خالد شیخ محمد کی تفتیش کے ریکارڈ دیکھے ہیں جن میں انہوں نے امریکی تفتیش کاروں کو اسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقاتوں اور دیگر منصوبوں کا بتایا ہے۔

خالد شیخ محمد کو مارچ میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا او پھر امریکی خفیہ ادارے سی ائی اے کی حراست میں ایک نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

اے پی کے مطابق خالد شیخ محمد نے بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن نے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی سن انیس سو چھیانوے میں شروع کر دی تھی ۔ انہوں نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ سنگاپور میں امریکی اہداف پر حملوں کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ تفتیش کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آگے جا کر یہ گیارہ ستمبر کے چار فضائی حملوں کا منصوبہ بن گیا۔

ریکارڈ کے مطابق خالد شیخ محمد نے بتایا ہے کہ انیس سو چھیانوے میں انہوں نے امریکہ ہر حملوں کے لئے اسامہ بن لادن کی مدد مانگی تھی۔ ابتدائی منصوبے کے تحت امریکہ کے مشرقی ساحل پر پانچ اور مغربی ساحل پر پانچ مقامات کو نشانہ بنایا جاتا تاہم اسامہ بن لادن نے کہا کہ یہ مناسب نہیں۔

تفتیشی ریکارڈ کے مطابق اسامہ بن لادن نے خالد شیخ محمد کو چار بندے خالد شیخ کے حوالے کیے تھے۔ ان میں سے دو یعنی خالد المذھر اور نواف الحازمی پینٹاگون سے ٹکرانے والے جہاز پر سوار تھے۔ دوسرے دو افراد یمن کے شہری تھے اور اور چونکہ وہ امریکی ویزے نہ حاصل کر سکے اس لئے ان کو ایشیا میں جہاز اغوا کرنے کے منصوبے پر کام کرنے پر لگا دیا گیا۔

اے پی کے مطابق اس تفتیشی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں محمد عطا سے کہیں زیادہ اہم کردار الحازمی اور المذھر کا تھا۔

اے پی کے مطابق تفتیش کے دوران خالد شیخ محمد نے کہا کہ ان کو اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے جس کا نام عمر البایومی بتایا گیا ہے اور جس نے دونوں حملہ آوروں کو کیلی فورنیا آمد پر مدد فراہم کی تھی۔

خالد شیخ محمد
جامعہ اسلامیہ کے ساتھ روابط؟

اے پی کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ مشرق بعید میں سر گرم تنظیم جماعہ اسلامیہ کے ساتھ کام کرتے رہے۔ جماعہ اسلامیہ کے کئی کارکن بالی کے بم حملوں کے مجرم پائے گئے ہیں۔

تفتیشی ریکارڈ کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی حملوں کے ایک نئے مرحلے کے لئے خالد شیخ محمد نے جامعہ اسلامیہ کے کارکنوں کی بھرتی شروع کر دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خالد شیخ کی ان مبینہ انکشافات کی تصدیق کرنا مشکل ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے اس تفتیشی ریکارڈ کی تفصیلات خود ہی صحافیوں کے پاس پہنچنے دی ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد