ٹیپ ضائع کرنے پر پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے خیفہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل مائیکل ہیڈن کو امریکہ کی کانگرس کی ایک کمیٹی میں دہشت گردی کے مبینہ ملزماں سے دوران تشویش تشدد کی ٹیپ بنانے اور پھر ان کو ضائع کرنے پر سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی کانگرس کی کمیٹی کی اس سماعت کے دوران جنرل مائیکل ہیڈن نے کہا ہے کہ ملزماں پر تشدد کی یہ وڈیو ٹیپ اور پھر ان کو ضائع کیا جانا ان کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہوا تھا۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کانگرس کے سامنے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی آئی اے کے ان اہلکاروں کو پیش کرنے میں تعاون کریں گے جو اس بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان ٹیپس میں تفتیش کے دوران ملزماں کو ’واٹر بورڈنگ‘ کے ذریعے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں ملزم کے منہ پر کپڑا باندھ کر اس کے منہ پر پانی ڈالا جاتا ہے۔ ابو زبیدہ گوانتانامو بے کے پہلے قیدی تھے جنہیں تفتیش کے دوران اس طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سی آئی اے کے ایک اہلکار جان کریاکو کے مطابق یہ طریقہ کار کارآمد ثابت ہوا اور اس سے ملزماں کی زبان کھلوانے میں بڑی حد تک مدد ملی۔ جان کریاکو کے مطابق ابو زبیدہ پر تفتیش کے دوران ’واٹر بورڈنگ‘ کا حربہ استعمال کیا گیا تو انہوں نے اگلے ہی دن کہا کہ اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ تعاون کریں۔ نامہ نگاروں کے مطابق سی آئی اے نےان ٹیپس کو ضائع کرنا کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ تمام ثبوت مٹائے دئے جائیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ تفتیش کے دوران گوانتانامو بے کے قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں تفتیشی ٹیپ ضائع کرنے کا اعتراف07 December, 2007 | آس پاس ’پانی میں ڈبونے کا حربہ کارگر تھا‘11 December, 2007 | آس پاس ملک بدر کیا جانے والا امریکی گرفتار07 December, 2007 | آس پاس امریکی خفیہ ادارے، خرچہ43.5 ارب ڈالر31 October, 2007 | آس پاس سی آئی اے جیلوں کی’تصدیق‘08 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||