BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 09:42 GMT 14:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پانی میں ڈبونے کا حربہ کارگر تھا‘
جان کریاکو
میرا ذہن اس تکنیک کے بارے میں تبدیل ہوا ہے: جان کریاکو
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک ریٹائرڈ ایجنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ کے اہم ترین رکن کو دورانِ تفتیش پانی میں ڈبونے کا حربہ استعمال کیا گیا تھا اور وہ تفتیش کے اس طریقۂ کار کو صحیح سمجھتے ہیں۔

سی آئی اے کے ریٹائرڈ ایجنٹ جان کریاکو نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو بتایا کہ سی آئی اے نے تفتیش کے دوران پانی میں ڈبونے کے حربے کو القاعدہ کے مرکزی رہنما ابو زبیدہ پر استعمال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ تکنیک تشدد کے زمرے میں آئے لیکن اس سے’قیدی‘ بہت جلد کمزور پڑگیا تھا۔ جان کریاکو نے بتایا کہ ڈبونے کے حربے کے استعمال کے ایک دن بعد ابو زبیدہ نے کہا کہ رات کو خدا نے اسے تفتیش کاروں سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سی آئی اے کے ریٹائرڈ ایجنٹ نے کہا کہ اس دن کے بعد سے اس نے ہمارے تمام سوالات کے جوابات دیے اور ان معلومات سے درجنوں حملوں کو ناکام بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر امریکیوں کی طرح وہ بھی اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا پانی میں ڈبونے کا حربہ استعمال کر کے معلومات حاصل کرنا درست ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں احساس تھا کہ یہ حربہ امریکہ کے اصولوں کے خلاف ہے اور انہیں یقین نہیں ہے کہ اس تکنیک کو زیادہ عرصہ صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے۔

سی آئی اے کے ریٹائرڈ ایجنٹ جان کریاکو نے کہا کہ اُس وقت وہ سمجھتے تھے کہ اس حربے کو استعمال کرنا چاہیے’لیکن وقت گزرنے کی ساتھ میرا ذہن اس تکنیک کے بارے میں تبدیل ہو گیا ہے‘۔

اے بی سی کے مطابق یہ انٹرویو کسی بھی اُیسے سی آئی اے ایجنٹ کا پہلا انٹرویو ہے جس نے القاعدہ کے مشتبہ افراد کی تفتیش کی ہے۔ یہ انٹرویو اس وقت کیا گیا ہے جب امریکی حکومت سنہ دو ہزار پانچ میں تفتیشی ویڈیو فلمیں ضائع کرنے کے الزام میں سی آئی اے کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

جو فلمیں ضائع کی گئی ہیں ان میں سنہ دو ہزار دو میں ابو زبیدہ سے تفتیش کی فلم بھی شامل ہے۔ ابو زبیدہ کو دو ہزار دو میں پاکستان سےگرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں گوانتانامو بھیج دیا گیا تھا۔

سی آئی اے نے کہا ہے کہ اس نے تفتیش کی فلمیں اپنے ایجنٹ کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے لیے ضائع کیں جبکہ لیکن ڈیموکریٹس نے الزام لگایا ہے کہ ایجنسی نے تشدد چھپانے کے لیے فلموں کو ضائع کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد