سی آئی اے کیس میں بش پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس کے سابق پریس سیکرٹری سکاٹ میکلیلن نے اپنی کتاب کے ایک اقتباس میں کہا ہے کہ جارج ڈبلیو بش نے وائٹ ہاؤس کے دو معاونین کے معاملے میں عوام کو گمراہ کرنے میں مدد کی ہے۔ سی آئی اے کی ایجنٹ ویلری پلیم کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت اس وجہ سے منظرِ عام پر آئی کہ ان کے سفارت کار شوہر عراق جنگ کے مخالف تھے۔ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر بش کبھی کسی سے غلط معلومات فراہم کرنے کے لئے نہیں کہیں گے۔ مسٹر میکلیلن کی کتاب اپریل تک شائع ہوگی اور پیش کردہ اقتباس اس کا خلاصہ ہے۔ اس میں وائٹ ہاؤ س کی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے دو ہزار تین میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مسٹر مکلیلن نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے دو معاونین کارل رو اور لیوس سکوٹر لیبی، مس پلیم کی شناخت ظاہر ہونے کے معاملے میں ملوث نہیں۔ مسٹر میکلیلن نے کہا کہ انہوں نے لاعلمی میں غلط معلومات فراہم کی ہیں اور ان کے اس عمل میں انتظامیہ کہ پانچ اعلی عہدے دار شامل ہیں جن میں رو، لیبی، نائب صدر، صدر کے چیف آف سٹاف اور خود صدرشامل ہیں۔ مسٹر مکلیلن نے دو ہزار تین سے دو ہزار سات تک پریس سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے اپنے اقتباس کے علاوہ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ نائب صدر کے سابق چیف آف آرمی سٹاف لیبی وہ واحد شخص تھے جنہیں اس معاملے میں مجرم ٹھہرایا گیا۔ انہیں شناخت ظاہر کئے جانے کے معاملے کی تحقیقات کے لئے تیس مہینے کی قید سنائی گئ۔ تاہم جولائی میں مسٹر بش نے مداخلت کرکے انہیں سزا سے بچا لیا۔ مس پلیم نے کہا کہ مسٹر میکلیلن کا اقتباس حیران کن ہے۔انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سابق پریس سیکرٹری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اخبارات سے جھوٹ بولنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ میکلیلن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ نہ صرف کارل روو اور سکوٹر لیبی نے انہیں جھوٹ بولنے کےلئے کہا بلکہ نائب صدر چینی، صدر کے چیف آف سٹاف اینڈریو کارڈ اور صدر بش نے بھی میکلیلن کو حکم دیا کہ وہ گمراہ کن بیان جاری کریں۔ وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس سیکرٹری ڈانا پرینو نے کہا ہے یہ اقتباس غیر واضح ہے اور صدر اپنے کسی ترجمان سے غلط معلومات فراہم کرنے کو نہیں کہیں گے۔ | اسی بارے میں صدر بُش کے پرانے ساتھی مستعفی13 August, 2007 | آس پاس امریکی اٹارنی جنرل مستعفی ہوگئے28 August, 2007 | آس پاس CIA کے خلاف عدالتی کارروائی03 December, 2005 | صفحۂ اول ’یورپ میں سی آئی اے کی پھرتیاں‘18 November, 2005 | صفحۂ اول جنوبی امریکہ: بائیں بازو کا چینل 01 November, 2005 | صفحۂ اول امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||