BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بُش کے پرانے ساتھی مستعفی
کارل روو
صدر بُش کے دو بار منتخب ہونے میں کارل کا بڑا کردار ہے
امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کے سینئر ترین اہلکار کارل روو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگست کے اختتام تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

کارل روو کو جارج ڈبلیو بُش کی صدارت کا ایک اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل سے ایک انٹرویو میں کارل روو نے کہا ہے کہ وہ خانگی مسائل کی وجہ سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

کارل روو 1993 سے اس وقت سے صدر بُش کے لیے کام کر رہے ہیں جب بُش ریاست ٹیکساس کے گورنر تھے۔

چیف منصوبہ ساز کے طور پر انہیں صدر بُش کی سن 2000 اور 2004 کے انتخابات میں جیت کا اہم کردار تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ریپبلکن پارٹی میں کارل کو انتہائی قابلِ احترام اور حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی میں اہم حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری ڈینا پیرونو نے کارل روو کے استعفے کو وائٹ ہاؤس کے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’وہ ایک اچھے دوست اور انتہائی ذہین شخصیت کے مالک ہیں۔ انہیں بہت یاد کیا جائے گا اور وہ صدر کے عظیم دوستوں میں ہی رہیں گے‘۔

کارل روو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے استعفیٰ دے رہے ہیں تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ درحقیقت کارل کے پاس اب اس صدر کے لیے مزید کوئی انتخاب جیتنے کا موقع نہیں بچا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق لگاتار سیاسی سکینڈلز کی وجہ سے صدر بُش کی شہرت کو بہت ٹھیس پہنچی ہے اور عوام میں ان کی مقبولیت تیس فیصد رہ گئی ہے۔

کارل روو اپنے سیاسی کیرئر میں ہمیشہ ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔

کارل اور بُش
کارل روو 1993 سے صدر بُش کے لیے کام کر رہے ہیں

گزشتہ ماہ آٹھ سرکاری وکلاء کی برطرفی کے بارے میں تحقیقات کے دوران امریکی سینیٹ نے کارل روو کے خلاف شواہد دیئے تھے لیکن صدر بُش نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کارل کو عدالت کے سامنے جوابدہی سے منع کر دیا۔ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کی ایک ایجنٹ ویلری پلیم کے مقدمے کے سلسلے میں بھی ان سے تحقیقات کی گئیں تاہم استغاثہ نے ان پر فرطِ جرم عائد نہ کرنے پر اتفاق کیا۔

وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کارل روو نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی وائٹ ہاؤس چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کانگرس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہو جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اب مستعفی ہونے کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف کے ذریعے یہ پتہ چلنے کے بعد کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے جو اہلکار اگست کے بعد بھی اپنے عہدوں پر رہیں گے انہیں جنوری 2009 تک اس انتظامیہ کی معیاد پوری ہونے تک وائٹ ہاؤس میں ہی رہنا ہو گا۔

اپنے انٹرویو میں کارل روو نے یہ امید ظاہر کی کہ صدر بُش کی مقبولیت آنے والے وقت میں بہتر ہو جائے گی اور عراق کے حالات بھی سنبھل جائیں گے۔ ان کے بقول اگر ڈیمو کریٹس نے ہیلری کلنٹن کو اپنا صدارتی امیدوار منتخب کیا تو آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹس پارٹی کے جیتنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
ٹام رِج بھی مستعٰفی
01 December, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد