مائیکل براؤن نے استعفیٰ دے دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کترینا طوفان سے سست روی سے نمٹنے پر تنقید کے بعد امریکہ میں ہنگامی حالات میں کام کرنے والے ادارے کے اعلیٰ ترین افسر مائیکل براؤن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مائیکل براؤن جو فیڈرل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی (فیما) کے ڈائریکٹر ہیں انہیں پہلے ہیں صدر جارج بش نےنیو اورلینز میں امدادی کاموں کے سربراہ کی حیثیت سے الگ کر دیا تھا۔ مائیکل براؤن کے استعفے کی خبر صدر جارج بش کے نیو اورلینز کے وسطی حصوں میں پہلی بار دورہ کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔صدر بش آفت زدہ علاقوں میں پہلے بھی جا چکے ہیں لیکن متاثرہ علاقے کے وسطی حصوں میں یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔ شہر میں ضیعف مریضوں کی چوالیس لاشیں ملی ہیں جو ایک ایسے ہسپتال میں تھے جہاں سیلابی پانی بھر گیا تھا۔ سمندری طوفان کترینا سے متاثر ہونے والی امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں اب تک مرنے والوں کی کل مصدقہ تعداد پانچ سو سے آگے بڑھ گئی ہے۔ سرکاری اہکاروں کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ طوفان سے ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے ہیں لیکن مرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں کم ہوگی۔ امریکہ میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق لوگ صدر بش اور ان کی انتظامیہ کے اس طوفان سے نمٹنے کے انداز سے کافی حد تک غیر مطمئن ہیں۔ مائیکل براؤن نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام (فیما) ادارے اور صدر جارج بش کے بہترین مفاد میں کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مائیکل براؤن کو واشنگٹن طلب کیا گیا تھا اور ان کی جگہ امریکی کوسٹ گارڈ ایڈمرل تھاڈ ایلن کو مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن اس تبدیلی سے چند ہی دن پہلے صدر بش نے مائیکل براؤن کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ تاہم امریکہ میں اخبارات اور سیاست دانوں نے مائیکل براؤن پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ ان میں اس طرح کی آفات سے نمٹنے کی استعداد ہی نہیں تھی۔ ساتھ ہی ساتھ صدر بش پر یہ تنقید بھی ہوئی تھی کہ انہوں نے 2001 میں مائیکل براؤن کو اس کام پر مقرر کیا تھا۔ اخبارات میں کہا گیا تھا کہ مائیکل براؤن کے علاوہ فیما کے آٹھ میں سے پانچ ایسے افسران مقرر کیے گئے تھے جنہیں آفتوں سے نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||