نیواورلینز: اعلیٰ ترین افسر تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک اعلیٰ ترین اہلکار کو جونیو اورلینز میں کترینا طوفان کے بعد ہنگامی حالات میں امدادی کارروائی کی سربراہی کر رہے تھے، ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ مائیکل براؤن جو فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر تھے انہیں لیوئزیانا سے واپس واشنگٹن بھیجا جا رہا ہے۔ اس نئے فیصلے سے قبل وہ اورلینز میں امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے تھے اور کچھ ہی دن پہلے صدر جارج بش نے ان کے کام کی تعریف بھی کی تھی۔ تاہم مائیکل براؤن اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بنے کہ ان کی نگرانی میں اورلینز میں لوگوں کو بچانے اور امدادی کام کی رفتار انتہائی سست رہی۔ ادھر نیو اورلینز میں اب زیادہ تر توجہ لوگوں کو بچانے سے تبدیل ہو کر ان کی بحالی کی طرف منعطف ہو گئی ہے۔ ابھی تک اورلینز کے کئی رہائشی سرکاری حکم کے باوجود وہاں سے باہر جانے سے انکاری ہیں۔ کوسٹ گارڈ کے وائس ایڈمرل ڈبلیو ایلن کو مائیکل براؤن کی جگہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ مائیکل شیرٹوف نے کہا کہ مسٹر براؤن فیما کے سربراہ رہیں گے۔ مسٹر براؤن پر یہ الزام بھی لگا تھا کہ انہوں نے ہنگامی حالات میں انتظامی امور سنبھالنے سے متعلق اپنے تجربے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ اس خبر کے بعد مسٹر براؤن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ واشگنٹن پہنچ کر تمام ’اغلاط‘ کی تصیح کریں اور جھوٹ کو بے نقاب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل کہانی ان کے کیریئر سے متعلق نہیں بلکہ امریکہ میں آنے والی اس قدرتی آفت سے متعلق ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس پر مسٹر براؤن کی قابلیت پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ دریں اثناء اتوار کو صدر جارج بش تیسری مرتبہ سمندری طوفان کی زد میں آ کر تباہی کا شکار ہونے والے اس علاقے میں جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||