’نیو آرلینز خالی کرنے کا حکم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے شہر نیو آرلینز کے میئر نے سیلاب سے بچ جانے والے افراد کو شہر سے نکال جانے کے لیے کہا ہے۔ میئر نے کہا ہے کہ شہر چھوڑنے سے انکار کرنے والوں کو وہاں سے زبردستی نکال دیا جائے گا۔ موجودہ صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نیو آرلینز میں لوگ بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ شہر میں کھڑا ہوا پانی کیمیائی اجزاء، ہلاک شدگان کی لاشوں اور زنگ آلودہ ہوتی ہوئی گاڑیوں سے خراب ہو چکا ہے۔ گاڑیوں سے بہہ جانے والا تیل پانی کی سطح پر کھڑا ہے۔ میئر نے کہا کہ شہر میں پائپ پھٹ جانے سے گیس بھی لیک ہو رہی ہے اور اگر گیس تیل تک پہنچ گئی تو ’خدا کی پناہ‘۔ خیال ظار کیا گیا ہے کہ ہزاروں لوگ اب بھی شہر میں موجود ہیں۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر سے پانی فوری طور پر نکالا جانا ضروری ہے۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ بھی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کیمیائی اور دیگر اجزاء سے آلودہ پانی اتنی بڑی مقدار میں جہاں بھی پھینکا جائے گا وہاں ماحول خراب ہو جائے گا۔ اس پانی سے شہر کے گرد آبگاہیں تباہ ہو جائیں گی اور مچھلیاں مر جائیں گی۔ ماہرین نے منگل کو سمندری طوفان سے نقصان کا تخمینہ ایک سو ارب ڈالر لگایا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||