BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد میں تاخیر، کمیٹیاں بیٹھیں گی
نیو آرلینز
نیو آرلینز کا تقریباً اسی فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے
امریکہ کے شہر نیو آرلینزمیں آنے والے سمندری طوفان کے آٹھ دن بعد انجینئرز نے شہر کو سیلاب سے بچانے والے بند کی دوبارہ مرمت کر لی ہے۔ یہ بند سمندری طوفان کے باعث کئی جگہوں سے ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے پورا شہر پانی کی نذر ہو گیا۔

دریں اثناء امریکی صدر جارج بُش اور امریکی ایوان نمائندگان کانگریس نے امدادی کارروائی میں سست روی کے الزامات کے بعد علیحدہ علیحدہ تحقیقات کی بات کی ہے۔

امدادی ٹیمیں ابھی تک زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہی ہیں۔ تاہم گرمی اور پینے کےصاف پانی کی کمی کے باعث خدشہ ہے کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

کئی پناہ گزینوں کو خصوصی طور پر لائے گئے بحری جہازوں میں بھیجا جا رہا ہے جو اگلے چھ مہینوں تک ان کے گھر کے طور پر کام کریں گے۔

انجینئرز نے سترہویں سٹریٹ کینال پر دوبارہ بند باندھ دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے پانی نکالنا شروع کر دیا ہے۔

دریں اثناء امریکی صدر بش نے ، جن پر ریاست لوئزیانا میں آنے والے سمندری طوفان کے بعد کی جانے والی امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر کڑی تنقید کی جارہی ہے، ایک بار پھر علاقے کا دورہ کیا ہے اور طویل المعیاد مدد کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے لوئزیانا اور میسیسپی کی ریاستوں کا دورہ کیا اور ان دس دیگر ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا جن میں طوفان سے بچائے جانے والے افراد کو پناہ دی گئی ہے۔

صدر بش نے دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کے معتبر سیاستدانوں کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے تاکہ موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر بحث کی جا سکے۔

اس سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کے لئے فنڈز اکھٹے کرنے کے لئے سابق صدور جارج بش سینیئر اور بل کلنٹن نے مہم چلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسی اثناء میں ایسے ہزاروں افراد نے سمندری طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر میں اپنے تباہ شدہ گھروں کا جائزہ لینے کے لئے وہاں کا دورہ کیا ہے۔

مسٹر بش کا یہ متاثرہ علاقوں کا پچھلے چار روز میں دوسرا دورہ ہے۔

میسیسپی میں امدادی ایجینسیوں کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے علم ہے کتنی تباہی ہوئی ہے۔ مجھے علم ہے کہ نقصان کتنا ہوا ہے۔ مجھے علم ہے کہ اس کی بحالی میں کتنا عرصہ لگے گا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

ادھر نیو آرلینز کے مئیر رے نیگن نے امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ سمندری طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچنا حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔

امدادی کارکن اب تک شہر میں بچنے والوں کو تلاش کررہے ہیں جبکہ وہاں سے لاشوں کو بھی اکھٹا کیا جارہا ہے۔

سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن نے، جو نیویارک سے سینیٹر ہیں، یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد کی جانے والی کانگریس کی سطح کی انکوائری کے انداز میں اس سمندری طوفان کے بعد حکومتی رد عمل پر بھی تحقیق کی جانی چاہئیے۔

صدر بش پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اس سلسلے میں امدادی کارروائیوں میں سستی برتی گئی۔ مسٹر بش نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کسی حد تک کئی جگہوں پر سستی سے کام لیا گیا لیکن ان کا اصرار ہے کہ حکومت ہر سطح پر ہر ممکن کام کررہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد